آگ سے بچائو،سی ڈی اے کے تحت ابتدائی سروے مکمل ،فائر سیفٹی اینڈ ہیزرڈ کے معیار پر پورا نہ اترنے والی عمارتوں کے مالکان کو نوٹسز جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
آگ سے بچائو،سی ڈی اے کے تحت ابتدائی سروے مکمل ،فائر سیفٹی اینڈ ہیزرڈ کے معیار پر پورا نہ اترنے والی عمارتوں کے مالکان کو نوٹسز جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز ) کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فائر سیفٹی ہیزرڈ کنٹرول کے حوالے سے سروے مکمل کرلیا۔ اس ضمن میں کل 6500 عمارات کو سروے کیا گیا۔ سروے کے دوران یہ بات مشاہدے میں آئی ہے زیادہ تر عمارات کے فائر سیفٹی پلان کی منظوری نہیں لی گئی اور ان عمارات کی فائر سیفٹی کے تکمیلی سرٹیفیکیٹس بھی جاری نہیں ہوئے۔ سروے کے دوران 300 سرکاری عمارات کا بھی معائنہ کیا گیا۔
یہ تفصیلات چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران بتائی گئیں۔ اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ کے ممبر ایڈمن طلعت محمود، ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن، ڈائریکٹر جنرل بلڈنگ و ہاسنگ کنٹرول، ڈائریکٹر جنرل اسلام آباد کیپیٹل ایمرجنسی سروسز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
واضح رہے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نوٹس لیتے ہوئے سی ڈی اے کو ہدایت کی تھی کہ اسلام آباد کی تمام عمارات کا فائر سیفٹی اینڈ ہیزرڈ کنٹرول کے حوالے سے جلد از جلد سروے کیا جائے۔ وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کیپیٹل ایمرجنسی سروسز اور بلڈنگ اینڈ ہاسنگ کنٹرول ونگ سمیت تمام متعلقہ شعبوں کو جلد از جلد سروے کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عمارات کے مالکان و قابضین کو ہدایت کی جائے کہ وہ فائر سیفٹی اینڈ ہیزڈ کنڑول کے حوالے سے سرٹیفیکیٹس پندرہ دن کے اندر سی ڈی اے کے بلڈنگ اینڈ ہاسنگ کنٹرول ونگ کے متعلقہ دفاتر میں جمع کروائیں۔ بصورت دیگر ہدایات کی تعمیل نہ کرنے والوں کے خلاف سی ڈی اے آرڈیننس اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کے تحت قانونی کارروائی کا اختیار استعمال کیا جائیگا، جسکے تحت جرمانے اور دیگر انفورسمنٹ اقدامات اٹھائیجائیں گے۔
اس ضمن میں ضروری سرٹیفیکیٹس جمع نہ کرانے کی صورت میں اگر عمارت میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسکی ذمہ داری متعلقہ مالکان اور عمارت کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ عمارتوں کے مالکان اور ان کی انتظامیہ سے مزید درخواست کی گء ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی عمارتوں کی حفاظتی حیثیت کو یقینی بناتے ہوئے ضروری دستاویزات وقت پر جمع کرائیں تاکہ دارالحکومت میں عوامی حفاظت کے معیارات کو برقرار رکھا جاسکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام عمارتوں کے مالکان و قابضین سالانہ بنیادوں پر اپنی عمارتوں کی انسپکشن کروائیں گے اور آگ سے بچا کے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے کوڈز کے مطابق سرٹیفکیٹس سی ڈی اے میں جمع کروائیں ۔ مزید برآں، تمام عمارتوں میں باقاعدہ فائر سے بچاو کے حوالے سے مشقوں کا اہتمام بھی کرائیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ بھی فائز سیفٹی کے اقدامات کے حوالے سے تمام ضوابط کا سختی سے اطلاق کو یقینی بنائیں۔
واضح رہے ان اقدامات کا بنیادی مقصد نہ صرف آگ لگنے کی صورت میں اسکے پھیلا کو روکنا ہے بلکہ عمارتوں سے محفوظ انخلا کے راستوں اور نظاموں کو فعال بنانا بھی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں اضافہ ہوگا بلکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ایک محفوظ اور جدید دارالحکومت بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجاپان کے سفارت خانے کی ٹائم-لوپ کامیڈی “مانڈیز: سی یو ذس ویک ” کی فلم اسکریننگ کی میزبانی جاپان کے سفارت خانے کی ٹائم-لوپ کامیڈی “مانڈیز: سی یو ذس ویک ” کی فلم اسکریننگ کی میزبانی ڈپٹی وزیراعظم سے چینی سفیر جیانگ زایدونگ کی ملاقات تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا نوٹیفکیشن کے پی حکومت اور جرگہ کی مشاورت کے بعد جاری ہوا، خواجہ آصف قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے امریکہ کے سفارت خانے کی پولیٹیکل کونسلر کی ملاقات چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا عمران خان سے ملاقات سے انکار بھارت کی ایک اور ناکامی، بنگلادیش نے چٹاکانگ میں انڈین اکنامک زون منصوبہ منسوخ کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فائر سیفٹی اینڈ سی ڈی اے کے تحت
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔