بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مساجد، مدارس اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم جاری، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق جون 2025ء سے نومبر 2025ء کے درمیان 300 سے زائد مساجد، مزارات اور درگاہیں بلڈوزر کارروائی میں مسمار کی گئیں۔ ان میں کئی ایسی مذہبی جگہیں شامل تھیں جو دہائیوں بلکہ صدیوں سے قائم تھیں اور باقاعدہ مذہبی سرگرمیوں، اجتماعی عبادات اور سماجی زندگی کا مرکز تھیں۔ رپورٹ: جاوید عباس رضوی
گزشتہ دنوں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی 56 صفحات پر مشتمل "فیکٹ فائنڈنگ" رپورٹ منظرعام پر آگئی، جس میں بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں، فرقہ وارانہ تشدد اور منظم امتیازی کارروائیوں کو تفصیل کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔ رپورٹ زمینی حقائق، سرکاری نوٹس، ایف آئی آر، عدالتی ریکارڈ اور متاثرین کی براہِ راست شہادتوں پر مبنی دستاویز ہے۔ یہ رپورٹ 21 جنوری 2026ء کو نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں ایک باضابطہ تقریب کے دوران جاری کی گئی۔ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم میں کوشک راج، سرشٹی جسوال، خورشید احمد اور تسلیم انصاری شامل تھے۔ اس ٹیم نے اتراکھنڈ کے مختلف اضلاع کے دورے کئے، متاثرین اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کئے اور سرکاری و عدالتی دستاویزات کی بنیاد پر رپورٹ مرتب کی۔ متاثرین کی سلامتی کے پیش نظر متعدد شہادتیں نام ظاہر کئے بغیر شامل کی گئی ہیں، تاہم تمام نکات کو دستاویزی شواہد سے جوڑا گیا ہے۔
رپورٹ کو جاری کرتے ہوئے سماجی کارکن ہرش مندر نے کہا کہ اتراکھنڈ کے واقعات ایک منظم سیاسی عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہیں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سینیئر وکیل پرشانت بھوشن نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اقدامات آئینی حدود کے اندر کئے جانے چاہیئے اور ان پر عدالتی و سماجی نگرانی انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے مذہبی اقلیتوں میں بڑھتے عدم تحفظ کے احساس پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ سینیئر صحافی صبا نقوی نے میڈیا کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ متعدد زمینی حقائق قومی مباحثے میں جگہ نہیں پا سکے۔
تقریب میں اتراکھنڈ کے سابق ریاستی وزیر یعقوب صدیقی اور اتراکھنڈ تحریک کے سینیئر رہنما لطافت حسین نے ریاستی تناظر میں ان واقعات کے سماجی اثرات پر گفتگو کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021ء سے 2025ء کے اواخر تک اتراکھنڈ میں مسلمانوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ واضح طور پر کہیں تو دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں نے اتراکھنڈ میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور نفرت کو خوب ہوا دی۔ اس طرح کہیں نفرت انگیز مہمات چلیں، کہیں معاشی بائیکاٹ ہوا، کہیں دکانیں توڑی گئیں اور کہیں مذہبی مقامات کو "غیر قانونی" قرار دے کر مسمار کیا گیا۔ ان تمام کارروائیوں کو مختلف اوقات میں "لو جہاد"، "لینڈ جہاد" اور "مزار جہاد" جیسے نعروں کے ذریعے جائز ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ نعرے محض سیاسی بیانات نہیں رہے، بلکہ انتظامی کارروائیوں، قانونی فیصلوں اور زمینی اقدامات کا جواز بنتے چلے گئے۔ اے پی سی آر کی رپورٹ کے مطابق "امید پورٹل" کے نفاذ کے بعد مساجد اور مزارات کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا.
رپورٹ میں درج ہے کہ کئی مساجد اور مزارات دو سو برس یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے قائم تھیں، مگر ان کے پاس وہ دستاویزات موجود نہیں تھیں جن کا تقاضہ ڈیجیٹل رجسٹریشن کے لئے کیا گیا۔ اس کے باوجود ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ان غیر رجسٹرڈ مساجد اور مزارات کو خودکار طور پر "متنازعہ" اور "غیر قانونی" قرار دے دیا گیا۔ اے پی سی آر کی رپورٹ کے مطابق جون 2025ء سے نومبر 2025ء کے درمیان 300 سے زائد مساجد، مزارات اور درگاہیں بلڈوزر کارروائی میں مسمار کی گئیں۔ رپورٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان میں کئی ایسی مذہبی جگہیں شامل تھیں جو دہائیوں بلکہ صدیوں سے قائم تھیں اور باقاعدہ مذہبی سرگرمیوں، اجتماعی عبادات اور سماجی زندگی کا مرکز تھیں۔
رپورٹ میں دہرادون کی شاہ درگاہ کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، جو 1982ء سے وقف بورڈ میں رجسٹرڈ تھی، مگر اپریل 2025ء میں رات کے وقت بغیر کسی پیشگی نوٹس کے مسمار کر دی گئی۔ اس واقعے پر سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی اور ریاستی حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس جاری ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح رجسٹرڈ مذہبی مقامات بھی انتظامی کارروائیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ اسی طرح ہریدوار میں اتراکھنڈ کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر صرف اس بنیاد پر رکوا دی گئی کہ ضلع مجسٹریٹ کی اجازت نہیں لی گئی تھی، حالانکہ رپورٹ کے مطابق اسی علاقے میں مندروں کی توسیع کے لئے ایسی کوئی اجازت طلب ںہیں کی جاتی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اے پی سی آر اسے انتظامی رویے میں واضح عدم توازن کی مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ ہریدوار، دہرادون، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر میں درجنوں مساجد اور مزارات کو "غیر قانونی تجاوزات" کے نوٹس جاری کئے گئے، جبکہ انہی اضلاع میں واقع مندروں اور گرجا گھروں کو ایسی کسی جانچ یا کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق یہاں "غیر قانونی تجاوزات" کی اصطلاح عملی طور پر ایک مخصوص مذہبی برادری کو نشانہ بنانے کا انتظامی ہتھیار بن گئی۔ اے پی سی آر کی رپورٹ میں اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی تحلیل اور اس کے بعد لائے گئے اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ادارہ جات بل 2025 کو متعصبانہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسلمانوں کی دینی تعلیم کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہے۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایسا ادارہ تھا، جس میں مسلمانوں کی مؤثر نمائندگی موجود تھی۔ اس بورڈ کی 13 نشستوں میں سے 9 نشستیں مسلمانوں کے پاس تھیں۔ نصاب کی تشکیل، اساتذہ کی اہلیت، امتحانات اور مدارس کی تسلیم شدگی جیسے بنیادی فیصلے انہی مسلم ماہرین کی نگرانی میں ہوتے تھے۔ یہی وہ ڈھانچہ تھا جو آئین ہند کے آرٹیکل 30(1) کے تحت اقلیتوں کو حاصل تعلیمی خودمختاری کی عملی شکل تھا۔ اے پی سی آر کے مطابق اس بورڈ کو مکمل طور پر ختم کر کے اس کی جگہ ایک نئی سرکاری اتھارٹی، اتراکھنڈ اسٹیٹ اتھارٹی فار مائنارٹی ایجوکیشن (یو ایس اے ایم ای) قائم کی گئی۔ اس نئی اتھارٹی میں 12 اراکین میں سے مسلمانوں کو صرف ایک نشست دی گئی، جبکہ باقی ارکان براہِ راست سرکاری نظام یا اکثریتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کے بعد نصاب، مدارس کے اساتذہ کی اہلیت اور اداروں کی منظوری کا اختیار مسلم ماہرین کے ہاتھوں سے نکل کر حکومت کے ہاتھ میں چلا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اقلیتی تعلیمی ادارہ جات بل 2025 کے تحت تمام مدارس کو ریاستی تعلیمی بورڈ سے الحاق اور اسی نئی اتھارٹی سے اقلیتی حیثیت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جو مدارس اس عمل میں ناکام رہیں گے، انہیں "غیر تسلیم شدہ" قرار دے کر بند کیا جا سکتا ہے۔ اے پی سی آر کے مطابق اس کے نتیجے میں صدیوں پرانے دینی تعلیمی ادارے صرف انتظامی شرائط کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ اس نکتے پر خاص زور دیتی ہے کہ یہ قانون ایسے وقت میں لایا گیا، جب جنوری سے اپریل 2025ء کے درمیان پہلے ہی 214 مدارس سیل کئے جا چکے تھے۔ رپورٹ اس ترتیب کو ایک واضح حکمتِ عملی کے طور پر بیان کرتی ہے کہ پہلے انتظامی کارروائیوں کے ذریعے بحران پیدا کیا گیا، پھر اسی بحران کو بنیاد بنا کر قانون سازی کی گئی اور بالآخر سرکاری کنٹرول کو "اصلاح" کے طور پر پیش کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس قانون کے تحت مدارس کو صرف تین سال کے لئے عارضی منظوری دی جائے گی، جسے کسی بھی وقت واپس لیا جا سکتا ہے۔ دفعہ 14(ک) میں "فرقہ وارانہ ہم آہنگی" کے خلاف سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، مگر اس اصطلاح کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں۔
اے پی سی آر کے مطابق یہ مبہم زبان افسران کو یہ وسیع اختیار فراہم کرتی ہے کہ وہ کسی بھی دینی یا فکری سرگرمی کو بنیاد بنا کر مدرسے کی منظوری منسوخ کر دیں۔ اس کے نتیجے میں مدارس میں مستقل خوف اور سیلف سنسرشپ کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ریاست میں موجود تمام 452 مدارس کو نئے نظام کے تحت از سرِ نو رجسٹریشن کرانا ہوگا، جبکہ مندروں اور دیگر اکثریتی مذہبی اداروں کو ایسی کسی عارضی منظوری یا بار بار جانچ کا سامنا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہی امتیاز اس دعوے کو کمزور کرتا ہے کہ یہ قانون "تمام اقلیتوں" کے لئے ہے کیونکہ اس کا عملی اطلاق بنیادی طور پر صرف مسلم اداروں پر ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ رپورٹ اتراکھنڈ میں مساجد، مدارس اور مسلم شناخت کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بتاتی ہے اور واضح لفظوں میں نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم کی مذمت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اے پی سی آر کی یہ رپورٹ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ جرائم کے معاملات میں مؤثر اور غیر جانبدارانہ قانونی کارروائی کی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ایسے واقعات میں متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیئے اور معاشی بائیکاٹ جیسے امتیازی اقدامات پر روک لگنی چاہیئے۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ آئینی اقدار، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور مرکز دونوں کی ذمہ داری ہے اور سماجی ہم آہنگی کے لئے تشدد کے خلاف واضح اور مؤثر زیرو ٹالرنس پالیسی ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق یہ مساجد اور مزارات میں اتراکھنڈ اتراکھنڈ میں فرقہ وارانہ کے مطابق اس نفرت انگیز اے پی سی آر کرتی ہے کہ رپورٹ میں کیا گیا کے خلاف 2025ء کے گیا ہے کے بعد کی گئی کے لئے کے تحت
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔