بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مساجد، مدارس اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم جاری، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق جون 2025ء سے نومبر 2025ء کے درمیان 300 سے زائد مساجد، مزارات اور درگاہیں بلڈوزر کارروائی میں مسمار کی گئیں۔ ان میں کئی ایسی مذہبی جگہیں شامل تھیں جو دہائیوں بلکہ صدیوں سے قائم تھیں اور باقاعدہ مذہبی سرگرمیوں، اجتماعی عبادات اور سماجی زندگی کا مرکز تھیں۔ رپورٹ: جاوید عباس رضوی
گزشتہ دنوں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی 56 صفحات پر مشتمل "فیکٹ فائنڈنگ" رپورٹ منظرعام پر آگئی، جس میں بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں، فرقہ وارانہ تشدد اور منظم امتیازی کارروائیوں کو تفصیل کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔ رپورٹ زمینی حقائق، سرکاری نوٹس، ایف آئی آر، عدالتی ریکارڈ اور متاثرین کی براہِ راست شہادتوں پر مبنی دستاویز ہے۔ یہ رپورٹ 21 جنوری 2026ء کو نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں ایک باضابطہ تقریب کے دوران جاری کی گئی۔ فیکٹ فائنڈنگ ٹیم میں کوشک راج، سرشٹی جسوال، خورشید احمد اور تسلیم انصاری شامل تھے۔ اس ٹیم نے اتراکھنڈ کے مختلف اضلاع کے دورے کئے، متاثرین اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کئے اور سرکاری و عدالتی دستاویزات کی بنیاد پر رپورٹ مرتب کی۔ متاثرین کی سلامتی کے پیش نظر متعدد شہادتیں نام ظاہر کئے بغیر شامل کی گئی ہیں، تاہم تمام نکات کو دستاویزی شواہد سے جوڑا گیا ہے۔
رپورٹ کو جاری کرتے ہوئے سماجی کارکن ہرش مندر نے کہا کہ اتراکھنڈ کے واقعات ایک منظم سیاسی عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہیں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سینیئر وکیل پرشانت بھوشن نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اقدامات آئینی حدود کے اندر کئے جانے چاہیئے اور ان پر عدالتی و سماجی نگرانی انتہائی ضروری ہے۔ اس موقع پر دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے مذہبی اقلیتوں میں بڑھتے عدم تحفظ کے احساس پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ سینیئر صحافی صبا نقوی نے میڈیا کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ متعدد زمینی حقائق قومی مباحثے میں جگہ نہیں پا سکے۔
تقریب میں اتراکھنڈ کے سابق ریاستی وزیر یعقوب صدیقی اور اتراکھنڈ تحریک کے سینیئر رہنما لطافت حسین نے ریاستی تناظر میں ان واقعات کے سماجی اثرات پر گفتگو کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2021ء سے 2025ء کے اواخر تک اتراکھنڈ میں مسلمانوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ واضح طور پر کہیں تو دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں نے اتراکھنڈ میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور نفرت کو خوب ہوا دی۔ اس طرح کہیں نفرت انگیز مہمات چلیں، کہیں معاشی بائیکاٹ ہوا، کہیں دکانیں توڑی گئیں اور کہیں مذہبی مقامات کو "غیر قانونی" قرار دے کر مسمار کیا گیا۔ ان تمام کارروائیوں کو مختلف اوقات میں "لو جہاد"، "لینڈ جہاد" اور "مزار جہاد" جیسے نعروں کے ذریعے جائز ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ نعرے محض سیاسی بیانات نہیں رہے، بلکہ انتظامی کارروائیوں، قانونی فیصلوں اور زمینی اقدامات کا جواز بنتے چلے گئے۔ اے پی سی آر کی رپورٹ کے مطابق "امید پورٹل" کے نفاذ کے بعد مساجد اور مزارات کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا.
رپورٹ میں درج ہے کہ کئی مساجد اور مزارات دو سو برس یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے قائم تھیں، مگر ان کے پاس وہ دستاویزات موجود نہیں تھیں جن کا تقاضہ ڈیجیٹل رجسٹریشن کے لئے کیا گیا۔ اس کے باوجود ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ان غیر رجسٹرڈ مساجد اور مزارات کو خودکار طور پر "متنازعہ" اور "غیر قانونی" قرار دے دیا گیا۔ اے پی سی آر کی رپورٹ کے مطابق جون 2025ء سے نومبر 2025ء کے درمیان 300 سے زائد مساجد، مزارات اور درگاہیں بلڈوزر کارروائی میں مسمار کی گئیں۔ رپورٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان میں کئی ایسی مذہبی جگہیں شامل تھیں جو دہائیوں بلکہ صدیوں سے قائم تھیں اور باقاعدہ مذہبی سرگرمیوں، اجتماعی عبادات اور سماجی زندگی کا مرکز تھیں۔
رپورٹ میں دہرادون کی شاہ درگاہ کا خصوصی ذکر کیا گیا ہے، جو 1982ء سے وقف بورڈ میں رجسٹرڈ تھی، مگر اپریل 2025ء میں رات کے وقت بغیر کسی پیشگی نوٹس کے مسمار کر دی گئی۔ اس واقعے پر سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی اور ریاستی حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس جاری ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح رجسٹرڈ مذہبی مقامات بھی انتظامی کارروائیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ اسی طرح ہریدوار میں اتراکھنڈ کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر صرف اس بنیاد پر رکوا دی گئی کہ ضلع مجسٹریٹ کی اجازت نہیں لی گئی تھی، حالانکہ رپورٹ کے مطابق اسی علاقے میں مندروں کی توسیع کے لئے ایسی کوئی اجازت طلب ںہیں کی جاتی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اے پی سی آر اسے انتظامی رویے میں واضح عدم توازن کی مثال کے طور پر پیش کرتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ ہریدوار، دہرادون، نینی تال اور ادھم سنگھ نگر میں درجنوں مساجد اور مزارات کو "غیر قانونی تجاوزات" کے نوٹس جاری کئے گئے، جبکہ انہی اضلاع میں واقع مندروں اور گرجا گھروں کو ایسی کسی جانچ یا کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق یہاں "غیر قانونی تجاوزات" کی اصطلاح عملی طور پر ایک مخصوص مذہبی برادری کو نشانہ بنانے کا انتظامی ہتھیار بن گئی۔ اے پی سی آر کی رپورٹ میں اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی تحلیل اور اس کے بعد لائے گئے اتراکھنڈ اقلیتی تعلیمی ادارہ جات بل 2025 کو متعصبانہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مسلمانوں کی دینی تعلیم کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہے۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ اتراکھنڈ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ایسا ادارہ تھا، جس میں مسلمانوں کی مؤثر نمائندگی موجود تھی۔ اس بورڈ کی 13 نشستوں میں سے 9 نشستیں مسلمانوں کے پاس تھیں۔ نصاب کی تشکیل، اساتذہ کی اہلیت، امتحانات اور مدارس کی تسلیم شدگی جیسے بنیادی فیصلے انہی مسلم ماہرین کی نگرانی میں ہوتے تھے۔ یہی وہ ڈھانچہ تھا جو آئین ہند کے آرٹیکل 30(1) کے تحت اقلیتوں کو حاصل تعلیمی خودمختاری کی عملی شکل تھا۔ اے پی سی آر کے مطابق اس بورڈ کو مکمل طور پر ختم کر کے اس کی جگہ ایک نئی سرکاری اتھارٹی، اتراکھنڈ اسٹیٹ اتھارٹی فار مائنارٹی ایجوکیشن (یو ایس اے ایم ای) قائم کی گئی۔ اس نئی اتھارٹی میں 12 اراکین میں سے مسلمانوں کو صرف ایک نشست دی گئی، جبکہ باقی ارکان براہِ راست سرکاری نظام یا اکثریتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کے بعد نصاب، مدارس کے اساتذہ کی اہلیت اور اداروں کی منظوری کا اختیار مسلم ماہرین کے ہاتھوں سے نکل کر حکومت کے ہاتھ میں چلا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اقلیتی تعلیمی ادارہ جات بل 2025 کے تحت تمام مدارس کو ریاستی تعلیمی بورڈ سے الحاق اور اسی نئی اتھارٹی سے اقلیتی حیثیت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جو مدارس اس عمل میں ناکام رہیں گے، انہیں "غیر تسلیم شدہ" قرار دے کر بند کیا جا سکتا ہے۔ اے پی سی آر کے مطابق اس کے نتیجے میں صدیوں پرانے دینی تعلیمی ادارے صرف انتظامی شرائط کی بنیاد پر غیر قانونی قرار دیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹ اس نکتے پر خاص زور دیتی ہے کہ یہ قانون ایسے وقت میں لایا گیا، جب جنوری سے اپریل 2025ء کے درمیان پہلے ہی 214 مدارس سیل کئے جا چکے تھے۔ رپورٹ اس ترتیب کو ایک واضح حکمتِ عملی کے طور پر بیان کرتی ہے کہ پہلے انتظامی کارروائیوں کے ذریعے بحران پیدا کیا گیا، پھر اسی بحران کو بنیاد بنا کر قانون سازی کی گئی اور بالآخر سرکاری کنٹرول کو "اصلاح" کے طور پر پیش کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس قانون کے تحت مدارس کو صرف تین سال کے لئے عارضی منظوری دی جائے گی، جسے کسی بھی وقت واپس لیا جا سکتا ہے۔ دفعہ 14(ک) میں "فرقہ وارانہ ہم آہنگی" کے خلاف سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، مگر اس اصطلاح کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں۔
اے پی سی آر کے مطابق یہ مبہم زبان افسران کو یہ وسیع اختیار فراہم کرتی ہے کہ وہ کسی بھی دینی یا فکری سرگرمی کو بنیاد بنا کر مدرسے کی منظوری منسوخ کر دیں۔ اس کے نتیجے میں مدارس میں مستقل خوف اور سیلف سنسرشپ کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ریاست میں موجود تمام 452 مدارس کو نئے نظام کے تحت از سرِ نو رجسٹریشن کرانا ہوگا، جبکہ مندروں اور دیگر اکثریتی مذہبی اداروں کو ایسی کسی عارضی منظوری یا بار بار جانچ کا سامنا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہی امتیاز اس دعوے کو کمزور کرتا ہے کہ یہ قانون "تمام اقلیتوں" کے لئے ہے کیونکہ اس کا عملی اطلاق بنیادی طور پر صرف مسلم اداروں پر ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ رپورٹ اتراکھنڈ میں مساجد، مدارس اور مسلم شناخت کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بتاتی ہے اور واضح لفظوں میں نفرت انگیز تقاریر اور نفرت انگیز جرائم کی مذمت کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اے پی سی آر کی یہ رپورٹ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ جرائم کے معاملات میں مؤثر اور غیر جانبدارانہ قانونی کارروائی کی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ایسے واقعات میں متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہیئے اور معاشی بائیکاٹ جیسے امتیازی اقدامات پر روک لگنی چاہیئے۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ آئینی اقدار، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور مرکز دونوں کی ذمہ داری ہے اور سماجی ہم آہنگی کے لئے تشدد کے خلاف واضح اور مؤثر زیرو ٹالرنس پالیسی ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق یہ مساجد اور مزارات میں اتراکھنڈ اتراکھنڈ میں فرقہ وارانہ کے مطابق اس نفرت انگیز اے پی سی آر کرتی ہے کہ رپورٹ میں کیا گیا کے خلاف 2025ء کے گیا ہے کے بعد کی گئی کے لئے کے تحت
پڑھیں:
ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔
اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔
میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔
اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔
میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔
ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔
اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔
اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟
یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔
اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔
ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔
وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘