میکسیکو: 1400 برس قدیم پُر اسرار مقبرے سے موت کا مجسمہ دریافت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
میکسیکو میں 1400 برس سے گمشدہ پُر اسرار مقبرہ دریافت ہوا جس میں موجود ایک مجسمہ موت کی عکاسی کر رہا ہے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ اس مقام پر غیر متوقع طور پر اس وقت پہنچے جب وہ میکسیکو کے ایک قصبے سان پیبلو ہوئیٹزو میں لُوٹ مار کی ایک بے نام رپورٹ سے متعلق تحقیق کر رہے تھے۔
حکام نے اس دریافت کو ملک کی وزارتِ ثقافت کی جانب سے گزشتہ دہائی میں کی جانے والی سب سے اہم آثارِ قدیمہ کی دریافت قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مقبرہ 600 عیسوی سے تعلق رکھتا ہے، یہ دور قدیم زیپوٹیکس (جن کو کلاؤڈ پیپلز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) سے کی ابتداء سے تھوڑا عرصہ پہلے کا ہے۔
مزید پڑھیںکراچی: کارسوارشہری سے 35 لاکھ روپےلوٹے جانے کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
زیپوٹیک تہذیب 700 عیسوی کے قریب وجود میں آئی اور اس کی تنزلی 900 عیسوی میں بتدریج شروع ہوئی اور بالآخر 1521 عیسوی میں ہسپانوی حملے سے یہ تہذیب ختم ہوگئی۔ تاہم، آج کی تاریخ میں آٹھ لاکھ کے قریب افراد کی شناخت زیپوٹکس کے طور پر پہنچانا جاتا ہے۔
مقبرے میں موجود باقیات کو محفوظ حالت میں دیکھ کر ماہرین حیران رہ گئے۔
ان باقیات میں ایک الّو کا مجسمہ ہے جس کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں جبکہ اس کی چونج نے اس وقت کے کسی معزز شخص کا چہرہ ڈھکا ہوا ہے۔
زیپوٹیک لوگوں کے مطابق الّو رات اور موت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔