کراچی: لاہور کے رہائشی 3 بچے کورنگی عوامی کالونی پولیس کو مل گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
کراچی میں کورنگی عوامی کالونی پولیس کو تین بچے ملے ہیں، بچے اپنا پتہ لاہور کا بتاتے ہیں، بچوں کی عمریں تین سے آٹھ سال کے قریب ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق کورنگی سنگر چورنگی سے تین بچے ملے ہیں، بچے اپنا نام آمنہ، طلحہ اور زینب جبکہ عمر آٹھ چھ اور تین سال بتاتے ہیں۔
بچے اپنا پتہ لاہور بھاٹی گیٹ اونچی گھاٹی پرانی سبزی منڈی کے پاس بتا رہے ہیں، جبکہ باپ کا نام علی اکبر، ماں کا نام شازیہ اور چچا کا نام عابد بتا رہے ہیں۔
بچوں کا کہنا ہے کہ لاہور سے اپنے ماں باپ کے ساتھ کراچی آئے تھے، ٹرین سے چائے لینے کے لئے نیچے اترے تھے اس دوران ٹرین چلی گئی۔
بچوں کو ایدھی ویلفیئر کے حوالے کردیا گیا ہے، بچوں کے اہلخانہ کورنگی عوامی کالونی پولیس سے رابطہ کرسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔