قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رکن سحر کامران نے کہا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال بڑھتا جارہا ہے، کالج اور یونیورسٹیوں میں بچوں کی اسکریننگ ہونی چاہیے۔

اسلام آباد میں راجہ خرم نواز کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران انہوں نے مطالبہ کیا کہ والدین اور بچے کی رضامندی کے ساتھ اسکریننگ ہونی چاہیے، تعلیمی اداروں میں طلباء کی کونسلنگ کے لیے ماہرِ نفسیات کو رکھا جائے۔

چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے کہا کہ ایسا نظام وضع کیا جائے کہ جس سے بچے کی کاؤنسلنگ ہو، اس کا معاملہ خفیہ رکھا جائے، بچوں کی سکریسی برقرار رکھی جائے، بچوں کے والدین کو بھی اعتماد میں لیا جائے، کالج سے لے کر اسمبلی تک تمام لوگوں پر یہ لاگو ہونا چاہیے، بچوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں، اے این ایف حکام اس پر بریفننگ دیں گے۔

سحر کامران نے کہا کہ ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں ری ہیبیلیٹیشن کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ اسکریننگ ٹیسٹ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے لینا ہے، صوبوں میں صوبائی صحت کا ڈپارٹمنٹ ٹیسٹ لے گا، وفاق میں وفاقی ادارہ ٹیسٹ لے گا، اے این ایف یہ ٹیسٹ نہیں لے سکتی، کونسلرز کو تعلیمی اداروں میں بلانا بھی وزارتِ تعلیم کا کام ہے اور وہ صوبائی موضوع ہے۔

سحر کامران نے مطالبہ کیا کہ انسدادِ منشیات کا بل لائی ہوں اس کو منظور کیا جائے۔

ممبران کمیٹی نے مؤقف اپنایا کہ یہ معاملہ صوبوں سے متعلق ہے، ان کو ہی بھیجا جائے۔

کمیٹی نے منشیات کنٹرول ترمیمی بل 2025ء کو مسترد کر دیا۔

دورانِ اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے استفسار کیا کہ چیئرمین سی ڈی اے کہاں ہیں؟ کمیٹی میں کیوں نہیں آئے؟

وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے جواب دیا کہ چیئرمین سی ڈی اے چیف جسٹس کے ساتھ میٹنگ میں ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے چیئرمین سی ڈی اے کو نوٹس جاری کر دیا، نوٹس چیئرمین اور سی ڈی اے کی جانب سے کسی بھی افسر کی کمیٹی میں عدم موجودگی پر جاری کیا گیا۔

ممبر کمیٹی قادر پٹیل نے کہا کہ ہمارے ہاں ڈیٹا لیک کر دیا جاتا ہے، یہاں تو نادرا کا ڈیٹا بھی لیک ہو جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: تعلیمی اداروں میں برائے داخلہ سحر کامران سی ڈی اے بچوں کی نے کہا

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت