Express News:
2026-07-24@10:34:18 GMT

جنگ اور انسان کی پسپائی

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

جنگ کبھی یکایک شروع نہیں ہوتی۔

 وہ پہلے لہجے بدلتی ہے، پھر الفاظ، پھر نقشوں پر تیر چلتے ہیں اور آخرکار زمین پر انسان گرتے ہیں۔ جنگ کی آمد سے پہلے خاموشی کا ایک عجیب شور ہوتا ہے، جسے صرف وہی سن پاتے ہیں، جنھوں نے پہلے بھی یہ آواز سنی ہو۔

آج جب خبر آتی ہے کہ امریکا اپنے جنگی بیڑے ایران کے قریب لا رہا ہے تو یہ محض ایک عسکری پیش رفت نہیں لگتی۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ عراق، افغانستان، لیبیا، شام ان سب کے ساتھ بھی کبھی اس طرح ہوا۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ احتیاط کس طرح تباہی میں بدلی۔

یہ کہنا شاید آسان ہوکہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، مگر ہر پرانی دشمنی جب اسلحے کے نئے انباروں سے ملتی ہے تو نتیجہ نیا اور زیادہ ہولناک ہوتا ہے۔ آج یہ خطہ پہلے ہی زخموں سے چور ہے۔ غزہ جل رہا ہے، یمن بھوک سے مر رہا ہے، شام ملبے کے درمیان زندہ ہے، عراق اپنی شناخت ڈھونڈ رہا ہے۔ ایسے میں ایک اور جنگ یا جنگ کا امکان پورے مشرقِ وسطیٰ کو اجتماعی سانحے میں دھکیل سکتا ہے۔

امریکا جب عالمی سلامتی کے نام پر بیڑے آگے بڑھاتا ہے تو سوال یہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ کیا چھپا رہا ہے۔ طاقتور ریاستیں ہمیشہ اخلاقی زبان میں بات کرتی ہیں، مگر ان کے فیصلے ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے ہوتے ہیں۔ تیل، راستے، اثرورسوخ یہ وہ الفاظ ہیں جو کسی پریس ریلیز میں نہیں آتے مگر ہر بم کے اندر موجود ہوتے ہیں۔

ایران کو بھی معصوم ریاست کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کی سیاست ، وہاں کے جبر، وہاں کے تضادات اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ریاست کے داخلی مسائل کو بیرونی جنگ سے حل کرنا تاریخ کا سب سے بڑا فریب رہا ہے۔ جب بھی کسی ملک پر بم گرے ہیں تو قبرستان آباد ہوئے ہیں۔ ماں سے اس کا بیٹا چھینا ہے، بہن سے اس کا بھائی، کوئی عورت بیوہ ہوئی ہے اور بچوں سے ان کا باپ چھن گیا۔

جنگ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ عام انسان کے خلاف لڑی جاتی ہے مگر فیصلے ہمیشہ اس کی غیر موجودگی میں ہوتے ہیں۔ وہ کسان جو تیل کی قیمت بڑھنے سے کھاد نہیں خرید پاتا، وہ ماں جو اندھیرے میں بچوں کو سلا کر خود جاگتی رہتی ہے، وہ طالب علم جس کے ملک کا مستقبل نقشوں پر کاٹا جا رہا ہوتا ہے، یہ سب جنگ کے فریق ہیں، مگر کسی میز پر موجود نہیں۔

خلیجِ ہرمز کی بات کی جا رہی ہے۔ عسکری تجزیہ کار اسے ایک اسٹرٹیجک پوائنٹ کہتے ہیں مگر میں اسے انسانیت کی شہ رگ کہوں گی۔ یہاں سے اگر آگ بھڑکی تو اس کی لپیٹ میں صرف جنگی جہاز نہیں آئیں گے بلکہ دنیا کے کروڑوں گھروں کے چولہے بجھ جائیں گے۔ مہنگائی بے روزگاری یہ سب جنگ کے وہ ہتھیار ہیں جو بغیر وردی کے مارتے ہیں۔

اس سارے منظر نامے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ خاموشی عالمی ضمیرکی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں کاغذی ہو چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی زبان انتخابی بن چکی ہے۔کہیں لاشیں قابلِ مذمت ہوتی ہیں، کہیں ناقابلِ ذکر یہ دہرا معیار ہی دراصل وہ زہر ہے جو دنیا کو مسلسل جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔

میڈیا کا کردار بھی اس بحران میں ایک سوال ہے۔ جنگی بیڑوں کی نقل و حرکت کو گرافکس اور اینیمیشن میں دکھایا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی اسٹرٹیجک گیم ہو، مگرکوئی یہ نہیں دکھاتا کہ ایک میزائل کے گرنے سے کتنے خواب ٹوٹتے ہیں اور دفن ہوتے ہیں۔ جنگ کو جب اسکرین پر خوبصورت بنا دیا جائے تو اس کی ہولناکی عام نظر سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتِ حال اور بھی تشویشناک ہے۔ ہم نہ جنگ کے معمار ہیں، نہ اس کے مرکزی کردار مگر اس کے نتائج سے بچ نہیں سکتے۔ ہماری معیشت پہلے ہی لرزاں ہے ہماری سیاست پہلے ہی کمزور۔ ایک علاقائی جنگ ہمیں ایک اور بحران میں دھکیل سکتی ہے، جس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی اٹھائے گا۔

سوال یہ نہیں کہ امریکا درست ہے یا ایران۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کبھی درست ہو سکتی ہے؟ہم نے صدیوں میں یہ سبق کیوں نہیں سیکھا کہ بم نظریات کو نہیں مارتے صرف انسانوں کو مارتے ہیں۔ ریاستیں رہ جاتی ہیں، سرحدیں بدل جاتی ہیں اور مائیں ہمیشہ اپنے بیٹوں کو دفن کرتی ہیں اور یہ دکھ کبھی جغرافیہ نہیں دیکھتا۔

آج جب جنگ کی آہٹ سنائی دے رہی ہے، تو سب سے بڑی مزاحمت شاید یہی ہے کہ ہم اسے معمول نہ بننے دیں۔ ہم سوال پوچھیں۔ ہم انکارکریں، ہم یہ ماننے سے انکار کریں کہ تباہی ناگزیر ہے،کیونکہ ناگزیر وہی ہوتا ہے جسے انسان قبول کر لے۔اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو بیڑوں کو پیچھے ہٹانا ہوگا، زبان کو نرم کرنا ہوگا اور انسان کو ایک بار پھر سیاست کے مرکز میں لانا ہوگا۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر ہمیں یہی بتائے گی کہ طاقت جیت سکتی ہے مگرکبھی درست نہیں ہو سکتی۔اور جب آنے والی نسلیں پوچھیں گی کہ تم اس وقت کہاں تھے، جب ایک اور جنگ کی تیاری ہو رہی تھی تو ہمیں کم ازکم یہ کہنے کے قابل ہونا چاہیے کہ ہم خاموش نہیں تھے۔

اسی تناظر میں یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی یہ ذہنوں میں بھی اتاری جاتی ہے۔ خوف، نفرت اور عدم تحفظ کو اس قدر معمول بنا دیا جاتا ہے کہ انسان اپنے ہی دکھ سے بے حس ہو جاتا ہے۔ جب روزانہ خبروں میں لاشیں گنی جائیں تو ایک لاش کم یا زیادہ ہونا معنی کھو دیتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان کی اخلاقی پسپائی ہوتی ہے۔ طاقت کے مراکز اس بے حسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں،کیونکہ خاموش سماج سوال نہیں کرتے اور سوال کرنا ہی اصل مزاحمت ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی تبدیلیاں ہمیشہ کمزور آوازوں سے شروع ہوئیں۔ وہ آوازیں جو ابتدا میں دبائی گئیں جن کا مذاق اڑایا گیا مگر آخرکار ضمیر کی صدا بن گئیں۔آج بھی اگرکہیں امید باقی ہے تو وہ اسی انسانی سوچ میں ہے، جوکہتی ہے کہ ہم جنگ کو تقدیر نہیں مانتے، ہم انسان کی زندگی کوکسی بھی جغرافیائی مفاد سے کم تر نہیں سمجھتے اور ہم یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں چاہے، ہماری آواز کتنی ہی کمزورکیوں نہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہوتے ہیں یہ نہیں سوال یہ ہیں اور ہوتا ہے جنگ کی رہا ہے

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف