Jasarat News:
2026-06-02@23:21:51 GMT

غزہ امن بورڈ یا مسئلہ فلسطین کی لوح ِ مزار؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260128-03-6
غزہ امن بورڈ کا قیام عمل میں آگیا ہے۔ یہ بورڈ ٹرمپ کا انتخاب، ٹرمپ کی قیادت اور ٹرمپ کے مقاصد پر مبنی ہے۔ ٹرمپ ہی اس بورڈ کا اوّل بھی ہے اور آخر بھی۔ اس کے مقاصد کا تعین بھی وہی کررہے ہیں اور اس کے اندر داخلے کی اجازت کا فیصلہ بھی انہی کے ہاتھ ہے۔ وہ اس کے تاحیات سرپرست ہیں۔ اس بورڈ کی رکنیت کے لیے ٹرمپ نے ایک ہی سلیبس مقرر کیا ہے۔ اہلیت کا ایک ہی پیمانہ ہے کہ وہ جو حماس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور وہ جو حماس کو صفحۂ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ جن کے بارے میں بھی کسی دور میں ٹرمپ کو یہ شک گزرا کی حماس کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث رہے ہیں انہیں ٹرمپ نے اس بورڈ کے قریب پھٹکنے نہیں دیا اور جن کے بارے میں یہ گمان تھا کہ ماضی میں اچھے بچے بن کر رہے ہیں اور آئندہ بھی اس معاملے میں ہر خدمت بجالائیں انہیں اس بورڈ کی بیرونی پرت کا حصہ بنایا گیا۔ قضیے کا سب سے مظلوم مگر سب سے مضبوط حصہ فلسطینی عوام اس بورڈ سے اچھوت کی طرح دور رکھے گئے ہیں۔ بورڈ میں ایک کے سوا تمام ارکان امریکی ہیں۔ وہ بھی ایک برطانیہ کے ٹونی بلیئر ہیں۔ بورڈ میں کسی مسلمان اور کسی فلسطینی کو رکنیت کا اہل نہیں سمجھا گیا۔ گویاکہ اسرائیل کے پسندیدہ اور امریکا کے چنیدہ مسلمان ملکوں کے نمائندوں کا رول کسی قوال کے ہمنواؤں سے زیادہ نہیں۔ ہر سْر اور تال پر انہیں شامل بھی ہونا ہے اور تالی بھی بجائی جانی ہے۔ ترکی اور قطر وہ دو ممالک تھے جن کی اس بورڈ میں شمولیت پر اسرائیل نے اس بنا پر اعتراض کیا تھا کہ ان ملکوں کے حماس کی قیادت کے ساتھ تعلقات تھے۔ اس کے باوجود بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں ترکی کے نمائندے اپنے پاکستانیوں بھائیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف نظر آئے۔ اگر ترکی اور قطر اس بورڈ میں شامل بھی ہوتے تب بھی کوئی قیامت نہیں آنا تھی۔

گزشتہ برس جب اسرائیل بے رحمی کے ساتھ اہل ِ غزہ کا قتل عام کر رہا تھا اور ان کی بستیاں اْجاڑ رہا تھا تو برادر اسلامی ملک کے راستے آذر بائیجانی تیل کی ترسیل نہ صرف جاری تھی بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 2025 میں چورانوے ہزار بیرل روزانہ کی بنیاد پر تیل کی اس رسد میں اکتیس فی صد کا اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں آذر بائیجان اسرائیل کو تیل فراہم کر نے والا سب بڑا ملک بن گیا۔ آئل ٹینکرز نے اپنی منزل کی شناخت بدلنے کے لیے قبرص اور مصر کے بورڈ آویزاں کیے رکھے مگر ترکی کے راستے ان کی منزل اسرائیل تھی۔ اس ایک دل خراش کہانی میں تو کئی اور داستانیں بھی پنہاں ہیں جن کا ذکر مناسب نہیں۔ اب امریکا نے فلسطینیوں کو مائنس کرکے غزہ کو ایک بڑے کاروباری اور رہائشی مرکز میں تبدیل کرنے کی راہ پر پہلا قدم رکھ دیا ہے۔ یہ وہ دن تھا جو اہل غزہ نے بہت پہلے ہی اپنی باطنی آنکھ سے دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے اس دن کو ٹالنے کے لیے طوفان الاقصیٰ کا خودکش مگر حتمی وار کیا تھا۔ غزہ کا ساحل اور اس کی زمینیں امریکا اور اسرائیل کو کھٹک رہے تھے۔ ایرانی قیادت نے بہت پہلے ہی کہا تھا کہ امریکا براہِ راست غزہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ حماس نے ایک موہوم امید پر موت میں زندگی تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر افسوس کہ وہ حالات کا دھارا بدل نہ سکے کیونکہ ان کے حامی اور مددگار ایک ایک کرکے تباہ ہوتے چلے گئے۔ ایران حماس کا آخری اعلانیہ مدد گار تھا۔ حماس کی اپنی قیادت، حزب اللہ اور یمنی حوثیوں کو کچلتے کچلتے اسرائیل نے اس آخری چراغ کو بھی اس وقت بجھا دیا جب شام میں بشار الاسد کی حکومت گرادی گئی۔ بشار الاسد کے مظالم اور کردار اپنی جگہ مگر وہ ایران اور حماس کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ تھے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ رابطہ ختم ہوگیا اور حماس اور اہل غزہ کا گھیرا مکمل ہو گیا۔

اسرائیل نے اس وقت تک جنگ بندی سے انکار کیا جب تک کہ غزہ مکمل کھنڈرات میں تبدیل نہ ہوا اور اس علاقے کی صفر سے تعمیر نو کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ اب غزہ کے پچاس فی صد رقبے پر اسرائیل کی فوجی تنصیبات ہوں گی اور باقی پچاس فی صد رہائشی اور کاروباری علاقہ ہوگا وہ بھی اس انداز سے کہ اس میں فلسطینیوں کی آبادی کا مکمل غلبہ نہیں ہوگا۔ غزہ والوں کے لیے ایک نیا قطعہ ٔ زمین بھی صومالی لینڈ کے نام سے اپنے طور پر تلاش کر لیا گیا ہے۔ چند دن قبل صومالیہ کے صدر شیخ محمود نے کہا تھا کہ ہمارے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق صومالی لینڈ کے ساتھ تین اہم نکات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ صومالی لینڈ میں فلسطینیوں کی دوبارہ آبادکاری، صومالی لینڈ میں خلیج عدن کے ساحل پر اسرائیلی فوجی اڈے کی فراہمی، صومالی لینڈ کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت۔ صومالی صدر کا کہنا تھا کہ اگر یہ تینوں اقدامات عملی جامہ پہنتے ہیں تو دنیا میں ایک نیا پنڈورہ باکس کھل جائے گا۔ جس کے عالمی سطح پر غیر متوقع اور ممکنہ طور پر خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔ صومالیہ کے صدر جس خدشے کا کھل کر اظہار نہیں کیا وہ یہی ہے کہ دنیا کے پرانے اور لاینحل تنازعات اور بے چین ومضطرب آبادیوں کے مسائل کا آخری حل یہ ہوگا کہ انہیں کسی ضابطے قاعدے کے تحت حل کرنے کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر انتقال آبادی کا فارمولہ اپنایا جائے گا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عالمی اسٹیبشلمنٹ کشمیر کو رفتہ رفتہ فلسطینی ماڈل کی عینک سے دیکھ رہی ہے اور ان کی سرپرستی میں بھارت نے اس راہ پر اچھا خاصا سفر طے کرلیا ہے۔ ایک تو غزہ بورڈ میں اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ مکمل بائی پاس ہوگیا۔

ٹرمپ ایک پورے عالمی ادارے کے مقابل اپنے رشتہ داروں اور دوستوں پر مشتمل ایک نیا پول کھڑا کر بیٹھا ہے تو دوسرا ایک مسلمہ عالمی تنازعے کو انتقال آبادی کے ذریعے حل کرنے کا نیا اصول اپنایا جانے لگا۔ ہم تو بزعم ِ خود غزہ امن بورڈ میں فلسطینیوں کو بچانے جارہے ہیں مگر کیا ٹرمپ نے اس بورڈ کے اغراض ومقاصد میں فلسطینیوں کو بچانا اور ان کی خواہشات کا احترام اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ذکر کیا ہے؟ ٹرمپ جیسا منہ پھٹ آدمی تو کہہ رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے باہر کے ایک ملک نے حماس کو غیر مسلح اور حزب اللہ کو تباہ کرنے کا یقین دلایا ہے۔ اس کا اشارہ کس جانب ہے؟ یہ پتا نہیں مگر شکوک کے بادل تو منڈلارہے ہیں۔ غزہ امن بورڈ جو حقیقت میں فلسطینیوں کی لوح ِ مزار ہے، میں دھوم دھام سے شرکت کرنے والے تاریخ کی غلط سمت میں جا کھڑے ہوئے ہیں۔ اس پر چند دن قبل المشہد ٹی وی پر سعودی اور امارات کی رواں کشمکش کے دوران ایک سعودی تجزیہ نگار ال عانی کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں ’’جب ہماری ریفائنری پر حملہ ہوا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم نے امریکا سے کیا کہا اس نے کچھ نہیں کیا۔ آج جب ہم ایران کے ساتھ امن اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں امریکا مشکوک اقدامات کر رہا ہے۔ امریکا جنگ کی سلطنت ہے اور جنگ کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا‘‘۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ ہم جنگ کی اس سلطنت کے ساتھ نتھی ہو کر رہ گئے ہیں اور کسی بھی بے جا فرمائش پر حرف ِ انکار بلند کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر کھوچکے ہیں۔

عارف بہار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں فلسطینیوں صومالی لینڈ ہیں اور کے ساتھ کرنے کا ہے اور اور ان کے لیے اور اس تھا کہ

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی