اسٹیٹ بینک کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، سلیم ولی محمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں یہ فیصلہ کاروباری طبقے کے لیے ناقابل قبول ہے۔شرح سود سنگل ڈیجٹ میں ہونی چاہیے اور موجودہ حالات میں اسے 8 سے 9 فیصد کے درمیان لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، کاروباری سرگرمیاں کمزور ہو چکی ہیں اور فنانسنگ کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔سلیم ولی محمد نے کہا کہ کاروباری لاگت بہت زیادہ ہو چکی ہے جبکہ زائد شرح سود کے باعث کاروبار شدید دباؤ میں ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کئی کاروباری اداروں کے لیے اپنی بقا قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود میں کمی ہی معاشی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنگل ڈیجٹ شرح سود کے لیے اسٹیٹ بینک سے مسلسل درخواست کی جا رہی ہے تاہم حالیہ فیصلے سے تاجر برادری کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔