Jasarat News:
2026-06-03@01:27:12 GMT

دنیا میں سردی کا راج‘ آسٹریلیا گرمی کی لپیٹ میں

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

دنیا میں سردی کا راج‘ آسٹریلیا گرمی کی لپیٹ میں

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن؍کینبرا(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا ، برطانیہ ، جاپان اور کینیڈا سمیت دنیا کے کئی ممالک شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں،جب کہ دوسری طرف آسٹریلیا میں گرمی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکا میں آنے والے شدید برفانی طوفان کے بعد مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔برف اور برفانی بارش کے باعث 34افراد ہلاک ہو گئے جبکہ لاکھوں شہری شدید سردی اور بجلی کی بندش کا سامنا کر رہے ہیں۔ نیو میکسیکو سے لے کر نیو انگلینڈ تک ایک فٹ سے زائد برف پڑی، جس کے باعث سڑکیں برف سے ڈھک گئیں اور ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو گئی۔نیویارک، میساچوسٹس، ٹیکساس اور نارتھ کیرولائنا سمیت کئی ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ 25 سے زائد گورنرز نے ایمرجنسی کا اعلان کیا۔طوفان کے باعث جنوبی ریاستوں میں بھی دہائیوں بعد شدید سرد موسم دیکھنے میں آیا، جہاں موٹی برف نے درختوں اور بجلی کی لائنوں کو گرا دیا۔ نیویارک سٹی میں سردی سے 5افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ٹیکساس، آرکنساس اور پنسلوانیا میں بھی مختلف حادثات میں ہلاکتیں ہوئیں ۔ کینیڈا میں شدید برفانی طوفان نے صوبے اونٹاریو کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ٹورنٹو اور اونٹاریو کے جنوبی علاقوں میں ایک فٹ سے زائد برف پڑی، 22 انچ تک ریکارڈ برف باری ہوئی، گاڑیاں برف سے ڈھک گئیں۔ ٹورنٹو کے پیئرسن انٹرنیشنل ائرپورٹ پر 18 انچ برف ریکارڈ ہوئی، جس کے باعث 900پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔برفباری سے متاثرہ علاقوں میں اسکول بند اور بس سروسز منسوخ کر دی گئیں، برف باری کے باعث 10 ہزار سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہوگئے۔دوسری جانب آسٹریلیا کی جنوب مشرقی ریاست وکٹوریا میں منگل کے روز شدید گرمی کے تمام ریکارڈٹوٹ گئے اور درجہ حرارت 48.

9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔ والپیپ شہر اور قریبی ہوپیٹون ایئرپورٹ پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو فروری 2009 میں ہوپیٹون ایئرپورٹ پر ریکارڈ شدہ 48.8 ڈگری سینٹی گریڈ کے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ ملبورن ائرپورٹ پر درجہ حرارت 44.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پانی زیادہ پییںاور شدید گرمی سے خود کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کریں، کیونکہ یہ ہیٹ سٹروک، ہیٹ ایکزاسٹشن اور دل کے دورے یا فالج جیسے خطرناک صحت کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ وکٹوریہ کے شمالی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کئی دنوں تک 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہ سکتا ہے، جبکہ جنوبی علاقوں میں رات کے وقت درجہ حرارت میں کمی کی توقع ہے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ علاقوں میں کے باعث

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری