نان فائلرز کے اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کمیٹی میں اسلحہ لائسنسوں کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں بتایا گیا کہ 2024 میں دو ہزار 962 نان فائلرز اور 189 فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے، 2025 میں دو ہزار 696 نان فائلرز اور 848 فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ نان فائلرز کے اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ لائسنس رکھنے والے نان فائلرز کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جہاں کچے کے ڈاکوؤں، نان فائلرز کو جاری سلحہ لائسنس سمیت دیگر امور زیر بحث آئے۔ کمیٹی میں اسلحہ لائسنسوں کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں بتایا گیا کہ 2024 میں دو ہزار 962 نان فائلرز اور 189 فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے، 2025 میں دو ہزار 696 نان فائلرز اور 848 فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نان فائلرز کو اسلحہ لائسنس کیوں دے رہے ہیں، جب ایک شخص ٹیکس ہی نہیں دے رہا تو اسے آپ اسلحہ کیوں دے رہے ہیں، جو ٹیکس فائلر نہیں ہیں ان کے لائسنس منسوخ کریں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا گزشتہ ادروار میں اسلحہ لائسنس بہت زیادہ تعداد میں جاری کیے گئے لیکن اب حکومت نے سخت پالیسی اپنا رکھی ہے، ممنوعہ بور صرف اہل لوگوں کو ہی دیے جا رہے ہیں، پچھلے ادروار میں جو لائسنس بنائے ہیں اس سے بہت کم لائسنس بنائے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ نان ٹیکس فائلرز کے لائسنس منسوخ کریں، جس پر وزیرداخلہ نے کہا فوری طور پر ان کے لائسنس منسوخ نہ کریں ان کو وقت دے دیں کہ یہ لوگ فائلر بن جائیں۔
کمیٹی نے ہدایت کی تمام نان فائلراسلحہ لائسنس رکھنے والوں کونوٹس جاری کریں اور ان کو وقت دیں تاکہ وہ فائلر بن سکیں، اگر فائلر نہیں بنتے تو ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں۔ اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کچے کے ڈاکوؤں پر کیوں قابو نہیں پایا جارہا؟ میرے علاقے سے بھی دو لوگوں کو چکمہ دے کر لے جایا گیا اور تاوان ادا کرکے انہیں واپس لانا پڑا۔ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم بہت کوشش کر رہے ہیں ان کے خاتمے کی، میرے سات ایس ایس پی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، یہ سندھ اور پنجاب کا سرحدی علاقہ ہے پولیس کی کارروائیوں کے باعث پچھلے 6 ماہ میں وہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کچے کے حوالے سے زبردست آپریشن چل رہا ہے، موجودہ آئی جی سندھ کافی کوشش کر رہے ہیں، ڈاکووں کے خلاف کارروائی کرنے کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فائلرز کو اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے کے لائسنس منسوخ نان فائلرز اور برائے داخلہ رہے ہیں نے کہا
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔