یورپ میں افغان شہریوں کا انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب، اسکاٹ لینڈ سے ایک افغانی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
یورپ میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث افغان شہریوں کے ایک منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس کے تحت اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو سے ایک افغان شہری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
برطانوی جریدے کے مطابق برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے انسانی اسمگلنگ کے الزامات پر افغان شہری کو گرفتار کیا۔ گرفتاری کے بعد گلاسگو اور برمنگھم میں دو مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، جہاں سے متعدد اہم دستاویزات اور الیکٹرانک آلات ضبط کیے گئے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق گرفتار افغان شہری اس نیٹ ورک کا اہم کردار ہے جو آئرلینڈ سے برطانیہ تک مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حرکت میں ملوث رہا ہے۔
افغان جریدہ ہشت صبح کے مطابق یہ افغان نیٹ ورک برطانیہ اور آئرلینڈ کے درمیان انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی مہاجرت میں سرگرم تھا۔
مزید پڑھیںافغانستان؛ طالبان نے 36 افراد کو سرعام کوڑے مارے؛ قید کی سزائیں بھی دیں
مسلسل نگرانی اور جبر، طالبان پالیسیاں افغانستان کو انسانی بحران کی طرف لے گئیں
افغانستان میں انسانی حقوق خطرے میں، طالبان کے تعزیری ضابطے پر کڑی تنقید
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی نقل و حرکت اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث افغان نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
این سی اے کے مطابق اس سے قبل ڈبلن سے گرفتار ہونے والے 26 سالہ افغان شہری پر بھی انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر قانونی سرگرمیوں اور انسانی جرائم میں ملوث ہونے پر پاکستان، ایران، ترکیہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک افغان شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ گرفتاری سے ایک بار پھر یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبان حکومت جرائم اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ افغان شہری میں ملوث کے مطابق نیٹ ورک
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن