ٹی 20 ورلڈ کپ بائیکاٹ پر سابق پی سی بی سربراہان کے متضاد مؤقف سامنے آئے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
آئی سی سی کے فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ سے خارج کرکے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کے معاملے نے پاکستان میں بھی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا پاکستان اس میگا ایونٹ میں حصہ لے یا بائیکاٹ کرے۔ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق سربراہان کے مؤقف میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔ بی بی سی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے اخراج کا فیصلہ آئی سی سی کی کونسل نے متفقہ طور پر کیا، اور کوئی دوسرا بورڈ اس پر اعتراض نہیں کر رہا، لہٰذا اب معاملے کو طول دینے کے بجائے پاکستان کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کا اہم رکن ہے اور پاک بھارت میچ کے نشریاتی حقوق بھی اس میں شامل ہیں، اس لیے بائیکاٹ کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب کرکٹ بورڈ نے فیصلہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے اور حکومت دیکھے گی کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں کیا حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔
دوسری جانب سابق چیئرمین خالد محمود اس رائے سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی سی بی کو اصولی موقف پر قائم رہنا چاہیے اور دوبارہ آئی سی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے دیگر اراکین کو یہ باور کرانا چاہیے کہ بھارت اکثر کھیل میں سیاست شامل کرتا ہے۔ خالد محمود نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے رویے ماضی میں بھی متنازع رہے ہیں — کبھی کرکٹرز ہاتھ نہیں ملاتے، کبھی ٹرافی وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں، اور کبھی کسی ملک میں کھیلنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے بقول، اگر اصولوں کی بنیاد پر کروڑوں ڈالر بھی قربان کرنے پڑیں، تو پاکستان کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے کیونکہ دنیا پیسہ نہیں، اصول دیکھتی ہے۔
واضح رہے کہ پی سی بی کے موجودہ چیئرمین محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت یا بائیکاٹ کے بارے میں حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر تک کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :