Juraat:
2026-06-02@23:55:05 GMT

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی
راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد

بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن مکمل کیا۔ اس کارروائی میں انتہائی مطلوب دہشت گرد ثناء اللہ آغا سمیت 6 دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ سی ٹی ڈی کے 10 اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹر کوئٹہ میں منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ نے بتایا کہ دہشت گردوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے معتبر اطلاعات موصول ہونے پر فوری ایکشن لیا گیا۔کارروائی گزشتہ روز پیر کو شروع ہوئی اور کئی گھنٹوں تک جاری رہی ہلاک ہونے والوں میں ثناء اللہ آغا، جو بھتہ خوری، قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث تھا، شامل ہے۔ ان پر اور ان کے ساتھیوں پر تقریباً 15 مقدمات (ایف آئی آرز) درج تھے۔ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ ملزمان اپنے گھروں میں نہیں بلکہ کسی دوسرے شخص رشتہ دار کے مکان میں چھپے ہوئے تھے سیکیورٹی فورسز نے ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی جس پر جوابی کارروائی میں وہ اور اس کے 5 ساتھی ہلاک ہو گئے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد دی گئی اور وہ اب خطرے سے باہر ہیں۔کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد ہوا ہے جسے فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد کالعدم تنظیموں سے روابط رکھتے تھے اور بھتہ خوری کے ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ اس گروہ کے باقی ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور آپریشن جاری ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون خصوصی شاہد رند نے پریس کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کی تعریف کی انہوں نے کہا کہ پشین میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر فوری کارروائی کی گئی اور ریاست دہشت گردی، بھتہ خوری اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گی۔یہ آپریشن بلوچستان میں دہشت گردی اور جرائم کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا اہم حصہ ہے جس سے ایک خطرناک نیٹ ورک کو شدید دھچکا لگا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ایسی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی اور کسی بھی دہشت گرد عنصر کو معافی نہیں دی جائے گی۔ علاقائی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیموں نے بھی آپریشن میں تعاون کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ثناء اللہ سی ٹی ڈی

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی