جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم
یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل صوبائی کنٹرول میں ہے اور نہ وفاقی کنٹرول میں بلکہ آئین کے مطابق بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہی واحد حل ہے۔ جس کے ماتحت تمام ادارے ہوں، ایک بار پھر کہتے ہیں کہ وزیر اعلی مراد شاہ کا اب کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ گیا ہے،انہیں فی الفور مستعفی ہوجانا چاہیے،بلاول بھٹو دنیا بھر میں پھرتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ ان کا مزاج نیویارک اور لندن وغیرہ سے ملتا ہے، انہیں پتہ ہے کہ استنبول کی بلدیاتی حکومت کے اختیار میں ماسٹر پلان،فائر بریگیڈ،تعمیر ات،ٹرانسپورٹ،سیوریج،پانی، فلڈپلانٹس،تعلیم،روزگار،قرضے جاری کرنا، لوگوں کی فلاح وبہبود ہے، اسے کہتے ہیں بلدیاتی حکومت، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے تو سارے اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے،عوام کے ووٹوں کی توہین کرکے قبضہ نظام نہیں چل سکتا،کراچی کا اختیار صرف کراچی کے شہریوں کے پاس ہونا چاہیے،آج عوام سندھ حکومت سے نالاں ہیں، کل وفاق کے خلاف آواز اٹھائیں گے،دنیا کے تمام بڑے شہروں میں بااختیار بلدیاتی نظام کامیاب ہے،لندن اور نیویارک مغرب میں، تہران اور استنبول مسلم دنیا میں کامیاب مثالیں ہیں،کراچی کے شہری آج بھی 2001 تا 2005 کے دور کو سنہری دور کہتے ہیں،نعمت اللہ خان کی قیادت میں سٹی گورنمنٹ نے کراچی کو درست سمت دی،کراچی کے مسائل کا حل مقامی بااختیار حکومت کے بغیر ممکن نہیں،اہلِ کراچی نے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو منتخب کیا مگر دھاندلی کے ذریعے پیپلز پارٹی کا میٔر مسلط کیا گیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گی۔ جماعت اسلامی یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر ”جینے دو کراچی کو” کے عنوان سے عظیم الشان مارچ منعقد کرے گی۔ٹرمپ کی پالیسیاں کاروباری اور جنگی ہیں۔ ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس کو مسترد اور پاکستان کی شرکت قبول نہیں کرتے،ٹرمپ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ امریکہ کی غلامی پاکستان کو پہلے بھی ڈیڑھ سو بلین ڈالر کا نقصان دے چکی ہے اور اب دوبارہ اسی راستے پر چلنا قومی مفادات کے خلاف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی