عمران خان کی دائیں آنکھ میں خطرناک بیماری کی تشخیص
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
بانی کی آنکھ میں انفیکشن کی بات میڈیا سے پتہ چلی یہ تشویش کی بات ہے، بیرسٹر گوہر علی
جب ملاقاتیں ہوں گی تو سیاست ہوگی پھر مختلف باتیں بھی جنم لیں گی،میڈیا سے گفتگو
چیٔرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ نہ نیا پاکستان بنا نہ پرانا واپس لوٹا اور نہ ہی ہائبرڈ نظام چل سکا ہے۔ میری گزارش ہے جو بھی بانی سے ملاقات کرا سکتا ہے ملاقات کرا دے۔ جتنا رخنہ ڈالا جائے گا حالات اتنے ہی خراب ہوں گے۔اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا مزید کہنا تھا کہ آج پاکستان ریورس میں چلا گیا ہے، مجھے بانی کی آنکھ میں انفیکشن کی بات میڈیا سے پتہ چلی ہے اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو یہ تشویش کی بات ہے۔جب ملاقاتیں ہوں گی تو سیاست ہوگی پھر مختلف باتیں بھی جنم لیں گی، فیملی کی ملاقاتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیٔے، پورا سسٹم جب ساکت ہو جائے عدلیہ کام نہ کرے تو عوام باہر نکلے گی، یہ وہ ملک نہیں جس کی لوگوں نے خواہش کی تھی۔سیاست میں ایک دوسرے کو اسپیس دینی پڑتی ہے، جتنی مرضی قانون سازی اور آئینی ترامیم کریں، جب تک لوگوں کے دلوں میں آپ کی عزت نہ ہو اس قانون سازی کا کوئی فائدہ نہیں، اگر آپ آٹھ فروری تک ملاقاتیں بند رہیں تو کیا 9 فروری کو سیاست ختم ہو جائے گی۔بانی نے اچکزئی صاحب اور علامہ ناصر کو مینڈیٹ دیا ہے ان کی جوڑی اب پوری ہوگئی ہے، دونوں اپوزیشن لیڈرز اب فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں اور کب کرنے ہیں، 8 فروری کی کال واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، غیر ذمہ دارانہ بیانات نہیں دیٔے جانے چاہیٔے۔کسی کا باپ کسی کی بہن جیسے الفاظ استعمال نہیں کیٔے جانے چاہیٔے، سب کو کہتا ہوں اپنی زبانوں پر قابو رکھیں، دہشتگردی کے ایشو پر سیاست نہیں ہونی چاہیٔے نہ نرم گوشہ ہونا چاہیٔے۔ سہیل آفریدی نے کہا ہے صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھے گی، جو ہمیں مار رہے ہیں ہم ان سے مذاکرات کی بات نہیں کرتے، صوبائی اسمبلی کا جرگہ ہوا انہوں نے سب کو اعتماد میں لے کر دہشتگردی ختم کرنے کا کہا۔ضرورت ہے ایک بیانیہ بنا لیں اور صوبائی اسمبلی کو آن بورڈ لے لیں، وفاقی حکومت نے پریس ریلیز جاری کی ہم نے انخلاء کا آرڈر نہیں کیا اس ایشو پر پریس ریلیز کی ضرورت نہیں تھی فون کر لیتے، انخلاء کا جو بھی ذمہ دار ہے آپس میں بیٹھ جانا چاہیٔے۔دہشتگردی کیخلاف نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہونا چاہیٔے، ان بیانیوں کی جنگ میں نہ وفاقی نہ صوبائی دہشت گردوں کا بیانیہ جیتے گا۔سوال یہ ہے تیراہ سے لوگوں کو باہر کس نے نکالا۔اگر صوبائی حکومت نے نکالا ہے تو کل کہیں واپس چلے جائیں اور اگر لوگ واپس جائیں گے تو وفاق کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیٔے۔ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا ایک بیان ہے آپ نے بانی پی ٹی آئی کا سیل دیکھا ہے یہ کب کی بات ہے؟ جس پر بیرسٹر گوہر خان مسکرائے اور جواب دیتے ہوئے کہا پتہ نہیں۔ لیکن میں نے کہا تھا بانی نے کہا تھا ان کے سیل میں کیمرے لگے ہیں۔ایک سوال پر کہا کہ ہیلتھ کے شعبہ میں میرے پاس اعداد و شمار نہیں کہ کے پی حکومت نے کتنے نئے ہسپتال بنائے لیکن ہیلتھ کارڈ کا اجراء بہت اچھا اقدام ہے۔ مجھے پچھلی دفعہ بھی لوگوں نے کہا شاید آپ کی ملاقات ہو جائے لیکن میں نے کہا اکیلا نہیں ملوں گا۔بیرسٹر گوہر نے کہا بچیوں کی شادی کی عمر میں مزید اضافہ ہونا چاہیٔے، اسلام میں چار شادیوں کی اجازت ہے لیکن فیملی لاز کے مطابق دوسری شادی پر بھی 6 ماہ سزا ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر میڈیا سے کی بات چاہی ے
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ