UpScrolled: فلسطینی ٹیکنالوجسٹ کی بنائی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام کے مقابلے میں تیزی سے مقبول
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم UpScrolled دنیا کے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے TikTok، Instagram اور X کے مقابلے میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم فلسطینی ٹیکنالوجسٹ عصام حجازی نے بنایا ہے اور اسے ایک غیر سنسر شدہ اور آزادی اظہار کا پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈاؤنلوڈز میں ریکارڈUpScrolled نے ایپل کے App Store میں امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا میں سب سے زیادہ ڈاؤنلوڈ ہونے والے سوشل میڈیا ایپ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ پاکستان میں یہ ایپ آٹھویں نمبر پر ہے۔
آزادی اظہار کی تحریکعصام حجازی کے مطابق، یہ ایپ غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے بعد بنائی گئی، جب سوشل میڈیا پر جنگ کے بارے میں مواد پر کنٹرول سخت ہو گیا تھا۔ حجازی نے بتایا:
’میں آزاد صحافیوں اور آن لائن ایکٹیوسٹس سے خبریں حاصل کر رہا تھا اور خود بھی پوسٹ شیئر کر رہا تھا۔ لیکن جیسے جیسے مہینے گزرتے گئے، ہر چیز — ہلاکتیں، وقت، عمارتوں کا نقصان، یرغمالیوں کی تعداد بڑھ رہی تھی، اور صرف آن لائن رسائی کم ہو رہی تھی۔ سچائی کو خاموش یا دبایا جا رہا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ اپنی کمیونٹی کی آواز بلند کرنے کا دباؤ انہیں اس ایپ کو بنانے کی تحریک ملا اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنی کارپوریٹ نوکری چھوڑ دی۔
ایپ کی خصوصیاتUpScrolled کی ترتیب Instagram جیسی ہے اور اس میں دو فیڈز موجود ہیں:
Following Feed: یہاں صارفین کے منتخب کردہ تخلیق کاروں کی پوسٹس کرونولوجیکل (وقت کے حساب سے) ترتیب میں آتی ہیں۔
Discover Feed: یہاں مشہور پوسٹس آتی ہیں، جن میں وقت کے ساتھ معمولی تبدیلی اور تھوڑی رینڈمنس بھی شامل ہوتی ہے تاکہ مواد تازہ رہے۔
غیر سیاسی اور شفاف ماڈریشنUpScrolled کی ویب سائٹ کے مطابق:
پلیٹ فارم کسی بھی سیاسی یا تجارتی ایجنڈے کو آگے نہیں بڑھاتا۔
کمیونٹی گائیڈلائنز یا قانون کی خلاف ورزی کرنے والی پوسٹس کی ماڈریشن انسان کی نگرانی میں، شفاف اور غیر سیاسی انداز میں کی جائے گی۔
پلیٹ فارم کا مقصدحجازی نے کہا کہ UpScrolled کوئی نیا آئیڈیا نہیں بلکہ سوشل میڈیا کی اصل روح کی طرف واپسی ہے۔
’میں چاہتا ہوں کہ UpScrolled ہر ایک کا پلیٹ فارم ہو۔ سیاست اس کے تخلیق کی وجہ تھی، لیکن کامیابی اس کی کمیونٹی اور متنوع مواد میں ہے۔‘
خود کفیل اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیتحجازی نے بتایا کہ انہوں نے یہ پلیٹ فارم خود بنایا اور اپنی ہی فنانسنگ کے ساتھ چلایا جا رہا ہے، کسی بڑے ٹیک کمپنی یا وینچر کیپیٹل سے فنڈنگ نہیں لی گئی۔ اس کی مقبولیت کے باعث ایپ ایک دن کے لیے ڈاؤن ہو گئی، کیونکہ نئے صارفین کی تعداد نے سرورز پر دباؤ ڈال دیا۔ ٹیم نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سسٹم کو اپ گریڈ کر رہے ہیں۔
تنقید اور سراہناUpScrolled کی کامیابی اس وقت سامنے آئی جب TikTok کی امریکی شاخ ایک زیادہ تر امریکی ملکیت والے وینچر کے کنٹرول میں آ گئی، جسے کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے پرو-اسرائیل قرار دیا۔ تھنک ٹینک نے UpScrolled کی آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے تعریف کی، خاص طور پر TikTok کی سنسرشپ کے تناظر میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپ سکرولڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپ سکرولڈ سوشل میڈیا پلیٹ فارم UpScrolled کی کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔