پاور ڈویژن کا نیٹ میٹرنگ صارفین سے متعلق اہم بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
پاور ڈویژن کا نیٹ میٹرنگ صارفین کے بارے میں اہم بیان سامنے آگیا جب کہ وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے 'ایکسپریس نیوز" کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے پی پی ایم سی کی ہدایات کے تحت نیٹ میٹرنگ صارفین کے یونٹس کریڈٹ نہ کرنے کا نوٹس لے لیا۔
جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے پی پی ایم سی کی ہدایات کے تحت نیٹ میٹرنگ صارفین کے یونٹس کریڈٹ نہ کرنے کا نوٹس لے لیا۔
وفاقی وزیر کی احکامات پر پی پی ایم سی نے جاری شدہ ہدایات پر فوری نظر ثانی کی، نظر ثانی شدہ ہدایات کے بعد یونٹس کریٹ کرنے کا مسئلہ حل ہوگیا۔
کچھ نیٹ میٹرنگ صارفین نے اپنے لائسنس (DG Capacity) کے تحت منظور شدہ صلاحیت سے زیادہ نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب کیے ہیں، گزشتہ ماہ ان میں سے چند صارفین کو گرڈ کو فروخت کی گئی پوری بجلی کا کوئی کریڈٹ نہیں دیا گیا۔
تاہم، پاور ڈویژن نے وضاحت جاری کردی ہے کہ یہ طریقہ درست نہیں تھا، نظرثانی شدہ ہدایات کے تحت، صرف وہی یونٹس کریڈٹ نہیں ہونگے جو منظور شدہ صلاحیت سے زائد ہو۔
اب منظور شدہ صلاحیت کے مطابق جو یونٹس نیشنل گرڈ کو بھیجے گئے ہیں انکا کریڈٹ ملے گا، اس بارے تمام ڈسکوز کو ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔
جن صارفین کے بلوں میں نیٹ میٹرنگ کے یونٹس کریٹ نہیں ہوئے ان کے لیے متعلقہ ایڈجسٹمنٹ اگلے بلنگ سائیکل میں کر دی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے بجلی صارفین کو ان کے جائز حق دلانے پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ صارفین پاور ڈویژن وفاقی وزیر صارفین کے کرنے کا کے تحت
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :