لاہور ہائیکورٹ نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق درخواست پر فریقین سے جواب طلب کرلیا۔

عدالت عالیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے پی ٹی اے، وزارت قانون و انصاف سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔

مزید پڑھیں: گوا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی پر غور

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار عالیہ سلیم کی نمائندگی شیزہ قریشی ایڈووکیٹ نے کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک حساس نوعیت کا معاملہ ہے، تمام فریقین اپنے جوابات جمع کرائیں۔ یہ معاملہ حکومت کا پالیسی میٹر بھی ہونا چاہیے۔

عدالت نے پی ٹی اے سمیت تمام فریقین کو ہدایت کی کہ وہ 10 فروری تک شق وار جواب جمع کرائیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

مزید پڑھیں: میٹا کی نئی حکمتِ عملی: سوشل میڈیا پر اے آئی فیچرز کے لیے ماہانہ سبسکرپشن پر غور

درخواست میں کہا گیا کہ ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کمسن بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات ڈالتا ہے، لہٰذا 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

WENEW جواب طلب سوشل میڈیا استعمال فریقین کم عمر بچے لاہور ہائیکورٹ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جواب طلب سوشل میڈیا استعمال کم عمر بچے لاہور ہائیکورٹ وی نیوز سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری