وزیراعظم، چیئرمین نیب ملاقات، ریکوری رپورٹ پیش، جدید ٹیکنالوجیز انضمام کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وزیراعظم محمد شہبازشریف سے چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے آج وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی اور نیب کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2025 پیش کی۔ وزیراعظم نے نیب کی پیشہ ورانہ آزادی اور قومی وسائل کے تحفظ کے اس کے مشن کی حمایت کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے نیب کی کارکردگی کا باضابطہ طور پر جائزہ لیا اور نیب کو ایک ٹیکنالوجی کی بنیاد پر چلنے والے ادارے میں تبدیلی کو سراہا ۔ وزیر اعظم نے جدید ٹیکنالوجیز کے انضمام کی تعریف کی جس میں AI کی مدد سے تحقیقات شامل ہیں۔ انہوں نے نیب کے ای- آفس فریم ورک کی بھی تعریف کی جو حکومت کے وسیع تر کفایت شعاری اور شفافیت کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
وزیراعظم نے نیب کی عوامی خدمات کی جانب توجہ کو بھی سراہا۔وزیراعظم نے نیب کی پیشہ ورانہ آزادی اور قومی وسائل کے تحفظ کے اس کے مشن کی حمایت کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
چیئرمین نیب نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس نیب نے 6.
چیئرمین نیب نے بتایا کہ نیب “کھلی کچہری” اور “سنٹرل کمپلینٹ سیل” نے کامیابی سے ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ بیورو ڈرانے دھمکانے کے بجائے شکایات کے ازالے کا وسیلہ بنے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیراعظم نے نیب کی چیئرمین نیب
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔