ECC اجلاس، خوراک، توانائی، صحت و تعلیم کیلئے 66 ارب کے فنڈز منظور
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے خوراک، توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں کیلئے 66 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی ۔ پاسکو کو 5 لاکھ ٹن گندم نیلام کرنے اور پنجاب کو 3 لاکھ ٹن گندم دینے کی اجازت بھی دیدی گئی ۔ حفاظتی ٹیکہ جات پروگرام کیلئے 29 ارب سے زیادہ اضافی فنڈز فراہم کرنے کی منظوری دیدی گئی ۔
وفاقی وزیر خزانہ کے زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو کے پانچ لاکھ میٹرک ٹن ذخائر نیلام کئے جائیں گے تاکہ اسٹوریج اخراجات میں کمی آئے اور گندم کی قیمتوں میں استحکام رہے ۔ پنجاب حکومت کو آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کے استحکام کے لیے 3 لاکھ میٹرک ٹن پاسکو گندم فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی ۔
ای سی سی نے پاکستان پوسٹ آفس کے ذمے یوٹیلیٹی کمپنیوں واجبات کی ادائیگی کے لیے دس ارب اٹھانوے کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کر لی ۔ بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کو انتیس ارب چھیاسٹھ کروڑ تیس لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی ۔ درآمدی یوریا پر سبسڈی وفاق اور صوبوں کے درمیان ففٹی ففٹی کے تناسب سے تقسیم کرنے کا فیصلہ ۔ اس مقصد کے لیے تئیس ارب بیالیس کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جن میں سے پندرہ ارب روپے وفاقی حکومت جاری کرے گی ۔
وزارت ہاؤسنگ کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ارب نوے کروڑ روپے اور کیڈٹ کالج حسن ابدال کے لیے پندرہ کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی ۔ ایف بی آر کی جانب سے ضبط کیے گئے سولر پینلز گلگت بلتستان حکومت کو فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔