ایران نے اب میری وارننگ نظرانداز کی تو پہلے سے بڑا خمیازہ بھگتنا پڑے گا؛ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے پہلے بھی میرے انتباہ کو نظرانداز کیا تھا جس کا خمیازہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر کی صورت میں بھگتنا پڑا تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے پھر ان کی وارننگ کو نظرانداز کیا تو مڈنائٹ ہیمر سے بھی بڑے اور خطرناک حملے کے لیے تیار رہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے نکل رہا ہے اور اب ختم ہونے کے قریب ہے۔ وہ فوری طور پر جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ اس بار ایسا معاہدہ کرے جس میں جوہری ہتھیار نہ ہوں۔
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب دباؤ اور غیر معمولی مطالبات ختم ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ دنوں میں ان کا امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تاہم ثالث ممالک کے ذریعے مشاورت جاری ہے۔
خیال رہے کہ ایران پہلے بھی خبردار کرچکا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بناسکتا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے بھی امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مسائل کو پیکیج کی صورت نہ دیکھا جائے بلکہ ایک ایک کرکے حل کیا جائے جس کی ابتدا جوہری معاملے سے کی جائے تاکہ پیش رفت ممکن ہو۔
ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو خبردار کرچکے ہیں کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے ایسی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
یاد رہے کہ امریکا کا بحری بیڑہ مشرق وسطیٰ کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے جو ممکنہ طور پر ایران پر حملے کے لیے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ ایران ایران نے کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔