ٹرمپ کے امن بورڈ میں شمولیت فلسطینیوں سے کھلی خیانت ہے، سید باقر الحسینی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
انجمن امامیہ بلتستان کے صدر علامہ آغا سید باقر الحسینی نے موجودہ حکومت کی جانب سے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نظریہ پاکستان اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے واضح موقف کے سراسر منافی قرار دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انجمن امامیہ بلتستان کے صدر علامہ آغا سید باقر الحسینی نے موجودہ حکومت کی جانب سے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نظریہ پاکستان اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے واضح موقف کے سراسر منافی قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں علامہ سید محمد باقر الحسینی نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1948ء میں غاصب صہیونی ریاست کے قیام کے خلاف دوٹوک متوقف اختیار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ "اسرائیل کا وجود عالم اسلام کے سینے میں خنجر کے مترادف ہے اور پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کرنا قائد اعظم کے نظریے سے انحراف کے مترادف ہے۔ صدر انجمن امامیہ بلتستان نے مزید کہا کہ یہ اقدام فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ کھلی خیانت ہے اور قبلہ اول بیت المقدس کے تقدس پر سمجھوتے کے برابر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا حقیقی تشخص مظلوموں کی حمایت حق و انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے اور صہیونیت کی مخالفت میں مضمر ہے۔ آغا باقر الحسینی نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قائد اعظم کے اصولی موقف کو مدنظر رکھتے ہوئے فلسطین کے معاملے پر واضح، جرات مندانہ اور اسلامی امت کے جذبات کے مطابق پالیسی اختیار کرے اور کسی بھی ایسے اقدام سے باز رہے جو ملت اسلامیہ کے احساسات کو مجروح کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: باقر الحسینی نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔