الجولانی کی کریملن میں پیوٹن سے ملاقات، روس کا شام کی سالمیت کی حمایت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
خبر رساں ادارے کے مطابق شامی صدر کے گزشتہ دورہ ماسکو کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مختلف شعبوں میں متعدد مشترکہ کمیٹیوں کو فعال کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شام پر قابض حکومت کے سربراہ محمد الجولانی نے روسی صدر سے ملاقات کی۔ صدر پیوٹن نے شام کی علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے لیے ماسکو کی حمایت کی حمایت کو دہرایا۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے آج کریملن پیلس میں شام کے عبوری صدر احمد الشارع (الجولانی) سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں الجولانی نے شام میں پیشرفت کے بارے میں ماسکو کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس نے گزشتہ ایک سال کے دوران ہمیشہ شام کے اتحاد اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس نے شام اور پورے خطے کے استحکام اور سالمیت کو برقرار رکھنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔
شام کے عبوری صدر نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ روس کی کوششیں تباہی و بربادی سے پاک مشرق وسطیٰ کی تشکیل کے لیے جاری رہیں گی اور خطے میں استحکام اور پائیدار ترقی غالب آئے گی۔ ولادیمیر پیوٹن نے دمشق کے لیے ماسکو کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روس ملک کی علاقائی وحدت کی بحالی کے لیے شامی صدر کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شامی صدر کے گزشتہ دورہ ماسکو کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مختلف شعبوں میں متعدد مشترکہ کمیٹیوں کو فعال کیا گیا ہے۔ روسی صدر نے مزید کہا کہ وہ ماسکو کے بارے میں دمشق کے مثبت نقطہ نظر اور نقطہ نظر سے خوش ہیں اور اس نقطہ نظر کو دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ماسکو کے کی حمایت کہا کہ کے لیے کہ روس
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔