یورپی یونین:بھارت تجارتی معاہدہ پاکستان کی صنعتوں کے لیے بڑا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے یورپی یونین اور بھارت کے درمیان طے پانے والے حالیہ تجارتی معاہدے کو پاکستان کی صنعتوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ اس معاہدے سے پاکستان کی تقریباً 9 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس متاثر ہو سکتی ہیں اور ایک کروڑ افراد کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو دیا جانے والا ہنی مون پیریڈ ختم ہو چکا ہے اور اب پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک پر زیرو ٹیرف کا اطلاق ہوگا جبکہ اس سے پہلے صرف پاکستان کو یہ سہولت حاصل تھی، حکومت کو فوری طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری بچانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے، جس میں صنعتوں کو علاقائی نرخوں پر بجلی اور گیس فراہم کرنا شامل ہے۔
سابق وزیر نے مزید مطالبہ کیا کہ صنعتی شعبوں پر ٹیکس کی شرح ہمسایہ ممالک کے برابر کی جائے اور کاروباری لاگت کو بھی ان کے برابر کیا جائے، کیونکہ ملکی صنعتیں نظام کی ناکامیوں کا اضافی بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں۔
دوسری جانب بھارت اور یورپی یونین نے اس معاہدے کو مدر آف آل ڈیلز قرار دیا ہے، اس معاہدے کے تحت یورپی برآمدات کے تقریباً 97 فیصد پر ٹیرف کم یا ختم کر دیے جائیں گے، جس سے سالانہ تقریباً 4 ارب یورو تک ڈیوٹی کی بچت ممکن ہوگی۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کا سب سے جامع تجارتی معاہدہ ہے، جس سے یورپ کے زرعی، آٹو موبائل اور خدمات کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس معاہدے میں سکیورٹی شراکت داری بھی شامل ہے، جس سے دفاعی صنعتوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے مطابق اس معاہدے سے بھارت کے ٹیکسٹائل، قیمتی پتھروں اور زیورات، چمڑے کی مصنوعات اور خدمات کے شعبے کو فروغ ملے گا، جبکہ بھارت کی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
گوہر اعجاز نے خبردار کیا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو فوری تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو ملکی برآمدات اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جس سے معیشت پر بھی دباؤ بڑھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یورپی یونین پاکستان کی اس معاہدے کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
انور عباس:پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا ہے کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پاکستان میں اطالوی سفارت خانے کے زیر انتظام 80 ویں اٹلی ڈے ہر عشائیے کا انتظام کیا گیا جس میں متعدد سفارتی، سیاسی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں عشائیے کا آغاز اٹلی اور پاکستان کے قومی ترانوں سے ہوا عشائیے سے خطاب میں پاکستان میں اطالوی سفیر ماریلینا آرمیلین نے کہا کہ اٹلی امریکہ ایران تنازع میں پاکستان کے ثالثی کے کردار کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان دوستی، کشادہ دلی اور احترام سے بھرپور ایک خوبصورت ملک ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ماریلینا آرمیلین کا کہنا تھا کہ آئندہ تین برس میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت اٹلی میں روزگار کے مواقع ملیں گے، سال 2025-2026 کے لئے 3200 پاکستانی طلباء کو اطالوی جامعات میں تعلیم کے لئے وظائف فراہم کئے، قونصلر رسائی اور دیگر سفارتی عوامل میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطالوی سفیر نے کہا کہ یورپی یونین مین سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی اٹلی میں مقیم ہے، اپنی مدت ذمہ داری کے دوران پاک اٹلی تعلقات میں بہتری کے لئے بہت محنت کی ہے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
مہمان خصوصی وزیر مملکت علی پرویز ملک نے اعادہ کیا کہ پاکستان اور اٹلی مشترکہ اہداف رکھتے ہیں دونوں کے باہمی تعلقات نے 78 برس مکمل کر لئے ہیں، پاک یورپی تزویراتی مذاکرات کے بعد امید ہے کہ اطالوی کمپنیاں پاکستان آئیں گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں نے مل کر کیک بھی کاٹا۔