Express News:
2026-07-24@02:15:30 GMT

چین: شرارتی بچے نے ناک میں تالا لگا لیا

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

معصوم بچے بے خیالی میں اپنی ناک میں پین کے ڈھکن، لاکٹ میں پروئے ہوئے دانے اور اس طرح کی چھوٹی چیزیں پھنساتے رہتے ہیں لیکن چین میں ایک شرارتی بچے نے اپنی ناک میں تالا پھنسا کر خود کو مشکل میں ڈال لیا۔

چین کے صوبے ہونان کے شہر ہوائیہوا میں ایک بچے نے اپنی ناک میں کمبینیشن پیڈ لاک (نمبر لگا کر بند کیا جانے والا تالا) لگا لیا۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ اس نے ایسا کیسے کیا لیکن لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے ایسا ایک کردار ’بُل ڈیمون کنگ‘ کی طرح دِکھنے کے لیے کیا۔ تاہم، تالا پھنسانے کے بعد وہ ایسے بیل کی طرح دِکھنے لگا جس کے ناک میں نکیل ہو۔

پھنسے ہوئے تالے کو نکالنے کی متعدد ناکام کوششوں کے بعد لڑکے نے اپنے والدین کو مدد کے لیے پکارا لیکن وہ بھی ناکام رہے۔

بالآخر انہوں نے مقامی فائر ڈیپارٹمنٹ سے مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ان کے لیے بھی یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ رہا۔

فائر فائٹرز نے تالے کا معائنہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ تالے کو کھینچنا یا زور ڈالنا یا ناک کی درمیانی ہڈی میں سراخ کرنا تکلیف کا سبب ہو سکتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے تالے کو کاٹا اور بچے کو تکلیف سے نکالا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ناک میں

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین