بنگلادیش جعل سازی میں عالمی بدنامی کا شکار، چیف ایڈوائزر محمد یونس کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا:بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے خبردار کیا ہے کہ ملک جعل سازی کے حوالے سے عالمی سطح پر بدنام ہو چکا ہے اور جعلی دستاویزات کے وسیع استعمال سے بنگلا دیش کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ڈھاکا میں ڈیجیٹل ڈیوائس اینڈ انوویشن ایکسپو 2026 کے افتتاح کے موقع پر محمد یونس نے کہا کہ بیرونِ ملک ویزا مسترد ہونے کی ایک بڑی وجہ جعلی دستاویزات ہیں، جن میں تعلیمی اسناد بھی شامل ہیں،متعدد ایسے کیسز دیکھے گئے ہیں جن میں افراد جعلی سرٹیفکیٹس کے ذریعے ویزا کے لیے درخواست دیتے ہیں۔ ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک خاتون نے خود کو ڈاکٹر ظاہر کیا مگر اس کے تمام کاغذات جعلی نکلے۔
چیف ایڈوائزر نے کہا کہ اس قسم کی دھوکہ دہی ذہانت اور تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال سے کی جاتی ہے لیکن یہ غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کے غلط استعمال پر بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو فریب دہی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
محمد یونس نے زور دیا کہ اگر بنگلا دیش ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنا چاہتا ہے تو دیانت داری اور انصاف کو یقینی بنانا ناگزیر ہے، ملک کو جعل سازی کی فیکٹری نہیں بننے دینا چاہیے بلکہ دنیا میں اپنی صلاحیتوں اور مہارت کی بنیاد پر عزت اور اعتماد کے ساتھ سر بلند ہونا چاہیے۔
چیف ایڈوائزر کے مطابق، صحیح اخلاقی بنیادوں پر ٹیکنالوجی اور مہارت کے استعمال سے بنگلا دیش مستقبل میں عالمی سطح پر اپنی شبیہ بہتر کر سکتا ہے اور نوجوانوں کی حقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیف ایڈوائزر محمد یونس کہا کہ
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔