Islam Times:
2026-06-03@02:35:07 GMT

تہران جنگ کے امکان کو سنجیدگی سے لے رہا ہے، ایرانی ذرائع

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

تہران جنگ کے امکان کو سنجیدگی سے لے رہا ہے، ایرانی ذرائع

المیادین سے گفتگو میں ایرانی ذریعے نے کہا کہ "امریکا کے لیے فوجی کارروائی کوئی آسان آپشن نہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کا ردِعمل صرف متناسب نہیں بلکہ مناسب اور مؤثر ہو گا،" اور خبردار کیا کہ ایرانی ردِعمل کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ "وہ دوبارہ محدود حملوں کے بارے میں سوچنے سے بھی باز رہیں۔" اسلام ٹائمز۔ ایک ایرانی ذریعے نے بدھ کے روز المیادین سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ تہران جنگ کے امکان کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور امریکا کی جانب سے آنے والے پیغامات میں الجھنے کی گنجائش نہیں رکھتا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فوجی نقل و حرکت کے مقابلے میں ایران اپنی دفاعی تیاریوں کو بلند ترین سطح تک بڑھا دے گا۔ذریعے نے مزید کہا کہ "امریکا کے لیے فوجی کارروائی کوئی آسان آپشن نہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کا ردِعمل صرف متناسب نہیں بلکہ مناسب اور مؤثر ہو گا،" اور خبردار کیا کہ ایرانی ردِعمل کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ "وہ دوبارہ محدود حملوں کے بارے میں سوچنے سے بھی باز رہیں۔" انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ: "خطے میں کوئی بھی امریکی اڈہ جہاں سے ہمارے خلاف فضائی کارروائیاں کی جائیں گی، ہم اسی مقام اور اسی اڈے کو نشانہ بنائیں گے، اور ہم میزبان ممالک کو نشانہ نہیں بنائیں گے کیونکہ ہم انہیں دشمن ریاستیں نہیں سمجھتے۔"

ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ایرانی ذریعے نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ معاملہ ملک کی ترجیح نہیں، خاص طور پر دشمن کے فوجی نقل و حرکت کے تناظر میں۔ انہوں نے کہا: "امریکا فوجی دباؤ کے ذریعے ہمیں مذاکرات پر مجبور نہیں کر سکتا۔" تاہم ذریعے نے اس بات کا عندیہ دیا کہ اگر امریکا بغیر کسی پیشگی شرائط اور نتائج طے کیے مذاکرات کرنا چاہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے۔ یاد رہے کہ یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران پر ممکنہ امریکی جارحیت کے حوالے سے قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں، جبکہ خطے کے ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت کی جا رہی ہے اور پرامن حل کی اپیلیں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ مغربی ایشیا میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں اضافے کے ساتھ ہو رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ ایران

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان