تہران جنگ کے امکان کو سنجیدگی سے لے رہا ہے، ایرانی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
المیادین سے گفتگو میں ایرانی ذریعے نے کہا کہ "امریکا کے لیے فوجی کارروائی کوئی آسان آپشن نہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کا ردِعمل صرف متناسب نہیں بلکہ مناسب اور مؤثر ہو گا،" اور خبردار کیا کہ ایرانی ردِعمل کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ "وہ دوبارہ محدود حملوں کے بارے میں سوچنے سے بھی باز رہیں۔" اسلام ٹائمز۔ ایک ایرانی ذریعے نے بدھ کے روز المیادین سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ تہران جنگ کے امکان کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور امریکا کی جانب سے آنے والے پیغامات میں الجھنے کی گنجائش نہیں رکھتا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فوجی نقل و حرکت کے مقابلے میں ایران اپنی دفاعی تیاریوں کو بلند ترین سطح تک بڑھا دے گا۔ذریعے نے مزید کہا کہ "امریکا کے لیے فوجی کارروائی کوئی آسان آپشن نہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کا ردِعمل صرف متناسب نہیں بلکہ مناسب اور مؤثر ہو گا،" اور خبردار کیا کہ ایرانی ردِعمل کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ "وہ دوبارہ محدود حملوں کے بارے میں سوچنے سے بھی باز رہیں۔" انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ: "خطے میں کوئی بھی امریکی اڈہ جہاں سے ہمارے خلاف فضائی کارروائیاں کی جائیں گی، ہم اسی مقام اور اسی اڈے کو نشانہ بنائیں گے، اور ہم میزبان ممالک کو نشانہ نہیں بنائیں گے کیونکہ ہم انہیں دشمن ریاستیں نہیں سمجھتے۔"
ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ایرانی ذریعے نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ معاملہ ملک کی ترجیح نہیں، خاص طور پر دشمن کے فوجی نقل و حرکت کے تناظر میں۔ انہوں نے کہا: "امریکا فوجی دباؤ کے ذریعے ہمیں مذاکرات پر مجبور نہیں کر سکتا۔" تاہم ذریعے نے اس بات کا عندیہ دیا کہ اگر امریکا بغیر کسی پیشگی شرائط اور نتائج طے کیے مذاکرات کرنا چاہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے۔ یاد رہے کہ یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایران پر ممکنہ امریکی جارحیت کے حوالے سے قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں، جبکہ خطے کے ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت کی جا رہی ہے اور پرامن حل کی اپیلیں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ سب کچھ مغربی ایشیا میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں اضافے کے ساتھ ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ ایران
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔