اصلاحات کے مثبت ثمرات ہیں کہاں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
کچھ دنوں سے ہم محسوس کررہے تھے کہ ہمارے ساتھ ایک گھپلا ہورہا ہے اوریہ گھپلا بھی غیروں کی بجائے اپنوں کی طرف سے ہورہاہے اور وہ بھی خیرخواہی ہمدردی اورمحبت کے پردے میں ۔ ہوتا یوں تھا کہ ہم جب بھی کسی شادی غمی یا اورکسی تقریب میں شرکت کے لیے جاتے تو گاڑی سے اترتے ہی ہمارا کوئی بیٹا یا بھتیجا ،بھانجا آکر ہمیں سہارا دیتا اورکسی بہت ہی ضعیف ونزار بوڑھے کی طرح منزل مقصود پر پہنچا دیتا۔
پتہ چلا کہ یہ ’’دھواں سا‘‘ ہمارے گھر ہی سے اٹھ رہا ہے یعنی سب کو ’’ماں‘‘ نے سمجھایا تھا کہ یہ تو باوجود کوشش کے لاٹھی ہاتھ میں نہیں لے رہا ہے حالانکہ اس غرض کے لیے یہاں وہاں سے بڑی خوبصورت پرکشش اورفیشن ایبل عصائیں بھی مہیا کی گئی تھیں بلکہ ایک بزرگ رشتہ دار کے ذریعے ہمیں عصا کے ثواب بھی سمجھائے گئے تھے کہ نیک لوگوں کی سنت ہے، چلتے ہوئے عصا لیا کرو لیکن ہم نے اس بزرگ کو دوٹوک بتا دیا تھا کہ ابھی ہمارا ارادہ ہرگز عصا کے ذریعے ثواب کمانے کا نہیں ہے کیوں کہ اچھے اچھے گناہوں کی تمنا ہے اور نہ پوری ہونے پر مرشد کی راہ پر چل رہے ہیں کہ
ناکردہ گناہوں کی بھی ’’حسرت‘‘ کی ملے داد
یارب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
اورپھر ہم کون سے محمد علی کلے یا آرنلڈ شوارزینگر یا بل گیٹس یا زگر برگ یا ایلون مسک یا لتا منگیشکر ہیں کہ نظرلگ جائے گی لیکن مقابل میں بہت بڑی اکثریت کا موقف تھا کہ
شیشے کا بدن لے کر پھرتے نہیں راہوں میں
پتھر بھی چھپے ہوں گے لوگوں کی نگاہوں میں
بری یا اچھی نظر چشم نیک وبد کے بارے میں اب تک ہم نے کبھی سوچا نہیں تھا اوراسے بھی جنات ،ارواح اور ایلینز وغیرہ کی طرح دکانداری سمجھتے تھے ، لیکن اب جو سوچنا شروع کیا تو اپنی تو خیر ہے کہ اپنے پاس ایسا ہے ہی کیا جو بری نظر کاشکار ہوجائیں بقول شخصے خالی میدان سے آندھی کیا لے کر جائے گی لیکن اورایک فکرلاحق ہوگئی اپنے اس عزیزوطن کی ؟ سوچا ایسا ہے تو اپنا یہ وطن عزیز شدید خطرے میں ہے کہ جب سے یہ وجود میں آیا ہے، کارنامے ہی کارنامے اورچمتکار ہی چمتکار کرتا چلا آرہا ہے ،صبح کارنامہ ، شام کارنامہ ، اپنا تو ہے کام کارنامہ ۔ وہ بھی کسی ایک طرف یاجہت میں نہیں چاروں اطراف اورشش جہات میں ، سیاست میں، جمہوریت میں، تجارت میں ،سائنس میں، زراعت میں ۔ مطلب یہ کہ ایں ہمہ خانہ آفتاب است۔
اگر کوئی پتھر بھی کسی وجہ سے لڑھک کر باہرچلاجائے تو واپس آتے ہوئے وہ دس پندرہ چاندوں اورسوپچاس ستاروں سے لدا پھنداآتا ہے جو ملک کے ماتھے پر جھومروں کی طرح سجا دیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہرطرف، ہرجہت، ہرجگہ چاند ہی چاند اورستارے ہی ستارے ہیں۔
وجہ تو اس کی ہمیں معلوم نہیں لیکن پاکستان کے نام ہی میں کچھ ایسی برکت ہے جو کبھی لنکا کے نام میں ہوا کرتی تھی جہاں کوئی بھی باون گزسے ایک انچ بھی کم پیدا نہیں ہوتا تھا ،یہ صفت بھی ہم نے سری لنکا سے کھینچ کر اپنے ہاں پہنچائی ہے اور اس کے ساتھ دنیا میں جہاں جہاں بھی کوئی ’’صفت‘‘ پائی جاتی تھی، ہمارے پاکستانی وہاں سے کھینچ کرلاچکے ہیں، گویا بقول نیوز ریڈر شکیل احمد کہ ہرصبح فتح ہرشام فتح اپنا تو ہے کام فتح۔ کرکٹ کے سلسلے میں تو آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہیرو کیا کیا کارنامے دکھا چکے ہیں، یہاںتک کہ برطانیہ، آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ والے بھی ڈر ڈر کر آسمان کو دیکھتے ہیں کہ کہیں شاہین تو نہیں آرہے ہیں ؎
در ہوا چند معلق زئی جوجلوہ گنی
اے کبوتر نگراں باش کہ شاہیں آمد
یہ سعادت خدا نے ہمیں ہی عطا فرمائی ہے کہ بہت اچھی صورت عطا کی ہے اور اچھی صورت کے بارے میں کون نہیں جانتا کہ
اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے
جس نے ڈالی بری نظرڈالی
اورہمارے اڑوس میں تو ہیں بڑے چشم بدنظر اوربدبخت لوگ
اس موذی اول ودوم وسوم موذی کو آپ نے دیکھا ہے ، کیسی بھوکی اور بری آنکھیں اس کی ہیں، بدنظری تو جیسے ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے، ہم خود تو اس بدنظری یا نظربد کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے لیکن اس ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک ماہر اورعامل کامل پڑا ہوا ہے ۔
ہماری اپنی مرضی پر ہوتا تو ہماری پہلی نگاہ انتخاب۔حضرت جناب علامہ ڈاکٹر پروفیسر انجینئر بیرسٹر محترم علامہ و اسکالر پر پڑتی لیکن ایسا لگتا ہے کہ آج کل وہ ہم سے کچھ ناراض ناراض اور روٹھے روٹھے سے ہیں ورنہ سال چھ مہینے میں وہ ایک دومرتبہ ہمارے اس خراب آباد کو اپنے قدوم لزوم سے فیض یاب کرتے تھے، اورکیوں ناراض نہ ہوں کہ اس ملک نے انھیںکچھ نہیں دیا لیکن کوئی بات نہیں ہمارے پاس اوربھی کئی آپشن ہیں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کارنامے پرکارنامے کرکے بھی چشم بد سے محفوظ ہیں اوراس کاصاف مطلب یہی ہے کہ ان کے پاس یقیناً کوئی ایسی تیغ بندی موجود ہے جونظربد سے ان کو بچائے ہوئے ہے، مثال کے طور پر ہمارے صدرمحترم زرداری کو لے لیجیے کامیابیاں ہی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں لیکن مجال ہے جوکوئی ان کا بال بھی بانکا کر پائے ۔ اور ہاں حضرت مولانا مدظلہ العالی۔ وہ تو ہر دور میں، ہرحال ، ہرمعاملے میں ہر حکومت میں سدا بہار ہیں لیکن اتنی بری نظریں ہونے کے باوجود بھی کوئی ان کو نظر لگا سکا ہے اوربھی بہت سارے ہیں مثلاً گجر، چوہدری ، کراچی کے بھائی جی وغیرہ ۔
اورہاں نظر بد لگنے کی بھی ایک بڑی مثال بھی ہمارے پاس موجود ہے، جناب بانی آف وژن آف ریاست مدینہ آف تبدیلی والے حالانکہ اس نے نظر بد سے بچنے کے لیے بہت کچھ کر رکھا تھا لیکن بری نظر سے بچ نہیں پائے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تھا کہ ہے اور ہیں کہ
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین