اسکرین گریب

لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے مل گئی جبکہ بچی کی تلاش جاری ہے۔

ڈی جی آپریشن فیصل کامران نے کہا ہے کہ واقعے کی انکوائری کیلئے ہائی لیول کمیٹی بنا دی گئی, پولیس نے حراست میں لیے گئے خاتون کے شوہر سمیت تین گرفتار افراد کو رہا کردیا۔

متاثرہ فیملی شورکوٹ سے سیر کرنے لاہور آئی تھی، مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی اس دوران خاتون بچی سمیت سیوریج لائن کی منڈھیر پر بیٹھی جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بنادی جو 24 گھنٹے میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔

غفلت اور کوتاہی کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو معطل کردیا گیا۔

واضح رہے کہ خاتون اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا دعویٰ خاتون کے شوہر نے کیا تھا جبکہ ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں 2 افراد کے گرنے کا دعویٰ کیا گیا، اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں ہے۔

خاتون کے سیوریج لائن میں گرنے کے جس مقام کی نشان دہی کی گئی ہے تھی وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے، انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت اس علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے۔

واقعے پر لاہور انتظامیہ کا موقف تھا کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

دوسری جانب لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، اس بیان کے بعد پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سیوریج لائن میں گرنے خاتون کے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار