قتل کیس میں نامزد ملزم شفقت عمرانی عدالت میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) قتل کیس میں نامزد، خود گرفتاری دینے والے لا ء گریجویٹ شفقت عمرانی سماعت کے دوران عدالت میں پیش ہوئے، ایڈیشنل سیشن جج ون کی عدالت نے سماعت 9 فروری تک ملتوی کر دی، سماعت کے موقع پر شفقت عمرانی اپنے وکلا ء طارق شاہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ مدعی فریق کے وکیل نے ایک گواہ کا دوبارہ بیان قلمبند کرانے کے لیے عدالت سے استدعا کی جس پر عدالت نے سماعت ملتوی کر دی، عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لا ء گریجویٹ شفقت عمرانی نے کہا کہ کیس کو جان بوجھ کر طول دیا جا رہا ہے جھوٹ آخر جھوٹ ہی رہتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مدعی فریق کے وکیل تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ شفقت عمرانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے بغیر ٹرائل کے آٹھ سال جیل کاٹ لیے ہیں اور کیس میں 400سے زائد پیشیاں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں عدالت سے انصاف کی پوری امید ہے اور وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔