بنگلادیش نے مقامی سطح پر ڈرونز بنانے کیلیے چین سے معاہدہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا(مانیٹر نگ ڈیسک) بنگلا دیش میں مقامی طور پر ڈرونز کی تیاری کیلیے بنگلا دیش ائر فورس اور چائنا الیکٹرونکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن انٹرنیشنل کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ بنگلادیش کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ فریم ورک کے تحت طے پایا، معاہدے میں ڈرونز کی پیداوار، اسمبلنگ سہولیات کے قیام اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔معاہدے کے تحت بنگلا دیش ائر فورس اور سی ای ٹی سی انٹرنیشنل مشترکہ طور پر بنگلا دیش میں جدید ترین ڈرونز کی پیداوار اور اسمبلنگ سہولیات قائم کریں گے۔ اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، استعداد کار میں اضافہ، صنعتی مہارتوں میں بہتری اور مشترکہ تکنیکی تعاون شامل ہوگا جس کا مقصد ڈرونز کی تیاری کے شعبے میں طویل مدتی خود انحصاری حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کے ذریعے بنگلادیش ائر فورس مقامی سطح پر اپنے ڈیزائن کردہ ڈرونز بھی تیار کرے گی، یہ ڈرونز نہ صرف عسکری کارروائیوں بلکہ امدادی سرگرمیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلیے بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔