بنگلادیش نے مقامی سطح پر ڈرونز بنانے کیلیے چین سے معاہدہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا(مانیٹر نگ ڈیسک) بنگلا دیش میں مقامی طور پر ڈرونز کی تیاری کیلیے بنگلا دیش ائر فورس اور چائنا الیکٹرونکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن انٹرنیشنل کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ بنگلادیش کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ فریم ورک کے تحت طے پایا، معاہدے میں ڈرونز کی پیداوار، اسمبلنگ سہولیات کے قیام اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔معاہدے کے تحت بنگلا دیش ائر فورس اور سی ای ٹی سی انٹرنیشنل مشترکہ طور پر بنگلا دیش میں جدید ترین ڈرونز کی پیداوار اور اسمبلنگ سہولیات قائم کریں گے۔ اس منصوبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، استعداد کار میں اضافہ، صنعتی مہارتوں میں بہتری اور مشترکہ تکنیکی تعاون شامل ہوگا جس کا مقصد ڈرونز کی تیاری کے شعبے میں طویل مدتی خود انحصاری حاصل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کے ذریعے بنگلادیش ائر فورس مقامی سطح پر اپنے ڈیزائن کردہ ڈرونز بھی تیار کرے گی، یہ ڈرونز نہ صرف عسکری کارروائیوں بلکہ امدادی سرگرمیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلیے بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔