Jasarat News:
2026-07-24@03:52:07 GMT

پاور آف دی پاور لیس اور انٹرنیشنل ورلڈ آڈر

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260129-03-5
(پہلا حصہ)
ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم جہاں عالمی رہنما معاشی اور جیو پالیٹیکل مسائل پر بات کرتے ہیں۔ اس فورم پر 21 جنوری 2026 کو کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی تقریر واقعی ایک شاندار تقریر تھی جس میں عالمی صورتحال کی ایک گہری اور حقیقت پسندانہ تصویر کشی کی گئی تھی۔ تقریر میں ورلڈ آڈر کے خاتمے اور بڑی طاقتوں کی رقابت کو بے نقاب کیا گیا۔ ساتھ ہی وہ درمیانی طاقتوں کو دعوت دیتے نظر آئے کہ وہ مل کر ایک نئی، زیادہ منصفانہ اور پائیدار دنیا کی تعمیر کریں۔ کارنی کی تقریر کا مرکزی خیال ’’دی پاور آف دی پاورلیس‘‘ سے مستعار ہے جو چیک مصنف، سیاست دان اور چیکو سلواکیہ کے آخری صدر ویکلاویل ہیوویل کا مضمون ہے وہ کمیونسٹ معاشرے کے ایک سبزی فروش کی مثال دیتے ہیں جو جھوٹے نعرے لگاتا تھا تاکہ نظام برقرار رہے۔ ویکلا ویل ہیول لکھتے ہیں: ’’پھلوں اور سبزیوں کی دکان کا مینیجر اپنی دکان کی کھڑکی میں پیازوں اور گاجروں کے درمیان یہ بورڈ لگاتا ہے ’’دنیا کے مزدورو متحد ہو جائو‘‘۔ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ وہ یہ بورڈ کیوں لگاتا ہے؟ وہ دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ کیا واقعی دنیا کے مزدوروں کے اتحاد کی سوچ ا سے پرجوش کردیتی ہے؟ کیا اس کے جوش کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ لوگوں کو اپنے خیالات سے آگاہ کرنے کی اس کی خواہش ناقابل برداشت ہوجاتی ہے؟ کیا اس نے کبھی یہ سوچا ہے کہ دنیا کے مزدوروں کا ایسا اتحاد کیسے ممکن ہوگا؟ اور اس نعرے کا مطلب کیا ہے؟

میں یہ قطعی طور پر فرض کرسکتا ہوں کہ سبزی فروشوں کی غالب اکثریت اپنی کھڑکیوں میں اس نعرے پر مشتمل بورڈ کے بارے میں کچھ نہیں سوچتی۔ نہ وہ اس نعرے سے اپنے حقیقی تعلق کا کبھی اظہار کرتی ہے۔ یہ پوسٹر سبزی فروشوں کو پیازوں اور گاجروں کے ساتھ انٹر پرائز ہیڈ کواٹر سے ملتا ہے۔ وہ سب پوسٹر کو کھڑکی میں صرف اس لیے لگاتے ہیں کیوں کہ برسوں سے یہ پوسٹر ایسے ہی لگایا جاتا ہے۔ ہر کوئی ایسا ہی کرتا ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے پر مصیبت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ملامت سہنی پڑسکتی ہے۔ غداری کا الزام بھی لگ سکتا ہے۔ لہٰذا پوسٹر لگانا پڑتا ہے۔ ایسا کرنا ہی پڑتا ہے کیونکہ اگر کوئی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہے تو ایسی چیزیں کرنی پڑتی ہیں۔ یہ ہزاروں تفصیلات میں سے ایک ہے جو آدمی کو ایک نسبتاً پرامن زندگی کی ضمانت دیتی ہیں، معاشرے کے ساتھ ہم آہنگی میں۔ جیسا کہ ’’وہ‘‘ کہتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ سبزی فروش اس نعرے کے مواد کے معانی سے لا تعلق ہے۔ وہ یہ بورڈ اپنی کھڑکی میں کسی ذاتی خواہش کی وجہ سے نہیں لگاتا۔ اس کا مطلب یہ مت سمجھ لیجیے کہ اس کے نزدیک بورڈ لگانے کا کوئی محرک اور مقصد نہیں ہے یا پھروہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نعرہ کسی کو کوئی پیغام نہیں دیتا۔ ایسا نہیں ہے۔ سبزی فروش جب یہ بورڈ لگاتا ہے تو دراصل وہ ’’کسی کو‘‘ یہ پیغام دے رہا ہوتا ہے ’’میں سبزی فروش بنام۔ ایکس وائی۔ یہاں رہتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں وہی رویہ اختیار کروں گا جس کی مجھ سے امید کی جاتی ہے۔ مجھ پر بھروسا کیجیے۔ میں ملامت سے بالاتر ہوں۔ میں فرمانبردار ہوں۔ اس لیے مجھے پر امن رہنے کا حق حاصل ہے‘‘۔

یہ پیغام یقینا کسی کے لیے ہے۔ یہ پیغام اپنا ایک مخاطب رکھتا ہے، اوپر کی طرف، (کمیونسٹ معاشرے کے) اعلیٰ افسران کی طرف۔ ساتھ ہی یہ بورڈ ایک ڈھال بھی ہے جو سبزی فروش کو ممکنہ مخبروں سے بچاتی ہے۔ اس نعرے کا ایک حقیقی مطلب بھی ہے جو سبزی فروش کے وجود میں گہرائی تک اُترا ہوا ہے۔ یہ بورڈ اس کے اہم مفادات کو ظا ہرکرتا ہے۔ اگر سبزی فروش سے یہ کہا جاتا کہ وہ ایک ایسا بورڈ لگائے جس پر یہ نعرہ درج ہو کہ ’’میں خوف زدہ ہوں اس لیے بغیر کسی چوں چرا کے فرماں بردار ہوں‘‘ تو پھر شاید سبزی فروش نعرے کے معانی سے اتنا لاتعلق نہ ہوتا حالانکہ سچائی یہی ہے کہ وہ خوف زدہ تھا۔ خوف پر مبنی اپنی ذلت کے کسی واضح بیان کو کھڑکی میں لگانے پر سبزی فروش اپنے آپ میں شر مندہ اور شرمسار ہو سکتا تھا۔ کیونکہ اسے اپنی عزت کا احساس ہے۔ اپنے خوف زدہ ہونے کے جواز میں نعرے کے سطحی متن کو جواز بناکر اب وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ آخر دنیا بھر کے مزدوروں کے متحد ہونے میں کیا برائی ہے؟ اس لیے نعرے کے لیے ایسا جملہ گھڑا گیا جو اطاعت کی کمزوری اور شرمندگی کو چھپانے میں مدد دے سکے۔ ایسے نعرے طاقت کی کمزور بنیادوں کو بھی چھپاتے ہیں۔ ایسے نعرے جس اعلیٰ چیز کے پیچھے چھپتے ہیں وہ ’’نظریہ‘‘ ہے۔ نظریہ دنیا سے تعلق قائم کرنے کا ایک نمائشی اور دکھاوٹی طریقہ ہے… یہ ایک پردہ ہے جس کے پیچھے انسان اپنی گراوٹ، اپنی معمولیت اور وقت کے مطابق ڈھلنے اور ابن الوقتی کو چھپا سکتا ہے۔ یہ ایک عذر ہے جو ہر کوئی استعمال کرسکتا ہے۔ سبزی فروش جو مزدوروں کے اتحاد میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے، نظام سے جڑ کر، اپنے آپ کو حکام اور طاقتوروں کی زیادتیوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اعلیٰ افسران تک اپنے طاقت میں رہنے کو محنت کشوں سے ہمدردی میں چھپاتے ہیں‘‘۔

کینیڈا کے وزیراعظم کارنی نے ہیویل کی اس کہانی کو ایک استعارے اور مثال کے طور پر صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کیا تاکہ ’’جھوٹ میں رہنے‘‘ کے تصور کو واضح کرسکیں۔ کہانی میں سبزی فروش ہر روز اپنی کھڑکی میں ایک جھوٹے نعرے پر مبنی بورڈ لگاتا ہے اس لیے نہیں کہ وہ اس پر یقین رکھتا ہے بلکہ یہ جھوٹے نظام میں رہنے کا اس کی تعمیل کرنے کا، اس کی مصیبتوں سے بچنے کا طریقہ ہے۔ یہ انٹر نیشنل عالمی نظام، یہ ورلڈ آڈر بھی ایک ایسا ہی جھوٹ اور فریب ہے کینیڈا، یورپ اور درمیانی طاقتیں جانتی ہیں کہ یہ بین الاقوامی آڈر اور اس کے قوانین اور اس کے دعوے جھوٹ ہیں لیکن وہ پھر بھی اس میں شرکت کرتی ہیں تاکہ اس کے نقصانات سے بچیں اور فوائد سمیٹ سکیں۔

کارنی کہتے ہیں ’’ہم جانتے تھے کہ بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کی کہانی جھوٹی تھی۔ سب سے طاقتور جب چاہیں خود کو اس نظام سے مستثنیٰ کر لیں گے۔ اس کے باوجود ہم نے کھڑکی میں بورڈ لگایا، رسوم میں شرکت کی اور ہم نے وسیع پیمانے پر بیان اور حقیقت کے درمیان فرق کو للکارنے سے گریز کیا۔ یہ (نعرے، بورڈ اور) نشان عالمی نظام کی جھوٹی رسوم کی علامت ہیں جیسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کرنا جبکہ طاقتور (جیسے امریکا) انہیں توڑتے ہیں۔ درمیانی طاقتیں اب تک جھوٹ میں رہتی رہی ہیں۔ لیکن اب (ٹرمپ کی پالیسیوں سے) یہ فریب ٹوٹ گیا ہے۔ بڑی طاقتیں ہمیشہ اپنی طاقت پر بھروسا نہیں کرسکتیں کیونکہ نظام کی طاقت سبزی فروش کی طرح شرکت میں ہے۔ اگر سبزی فروش اور درمیانی طاقتیں بورڈ اُتاردیں، نظام سے الگ ہوجائیں تو نظام ٹوٹ جائے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ درمیانی طاقتیں جھوٹ میں رہنا چھوڑدیں اور اس عالمی نظام سے الگ ہو جائیں اور اپنا متنوع اتحاد بنا لیں‘‘ یورپ کی درمیانی طاقتوں اور دنیا کے لیے یہ ایک ’’کال ٹو ایکشن‘‘ ہے۔ بات آگے بڑھے اس سے پہلے داغ دہلوی کا ایک شعر ملا حظہ فرمائیے:

دی شبِ وصل موذن نے اذاں پچھلی رات
ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا

کارنی کو ورلڈ آڈر فریب اس وقت نظر آیا جب آگ خود ان کے گھر یورپ تک آپہنچی۔ 2025 میں امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، امریکا نے مہلک ترین بموں سے ایران کو نشانہ بنایا لیکن یورپ نے اسے خود دفاعی قراردیا، اہل غزہ کی نسل کشی کو اسرائیل کا حق دفاع کہا، وینزویلا کے صدر کے اغوا پر خاموشی اختیار کی۔ اس سے پہلے عراق میں افغانستان میں بیسیوں لاکھ مسلمانوں کو قتل کردیا گیا۔ اس وقت یورپ امریکا کے اتحادی کی حیثیت سے دنیا کی اس صورتحال کو انجوائے کررہا تھا لیکن اب معامل گرین لینڈ تک آپہنچا، ٹرمپ یورپ سے بھی دشمنوں والاسلوک کررہا ہے، ناٹو قریب الاختتام ہے تب کارنی کو ورلڈ آڈر ٹوٹتا نظر آرہا ہے۔
(جاری ہے)

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: درمیانی طاقتیں کھڑکی میں ورلڈ ا ڈر سکتا ہے نعرے کے یہ بورڈ دنیا کے اس لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش