سابق مس یونیورس امیدوار اور ٹی وی میزبان جیلین الواریز نے انکشاف کیا ہے کہ صرف 33 برس کی عمر میں بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض کا سامنا کر رہی ہوں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق معروف شوبز شخصیت نے یہ انکشاف انسٹاگرام پر کیا اور بتایا کہ کینسر کی تشخیص کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل چکی ہے۔

ماڈل جیلین نے بتایا کہ ابتدا میں ہی اپنی علامات کو سنجیدگی سے نہ لینے پر افسوس ہیں اور خواتین کو مشورہ دوں گی کہ اس غلطی سے بچیں۔

انھوں نے مزید لکھا کہ وہ اس مشکل مرحلے سے اپنے پروردگار پر کامل یقین، مضبوط ایمان اور پُرسکون دل کے ساتھ کاٹ رہی ہیں۔

جیلین نے بتایا کہ زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب آپ موت کا سامنا کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ابھی نہیں، میرے ساتھ نہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ اپنی اصل طاقت اور حوصلہ دریافت کرتے ہیں۔

جیلین نے ایک ٹی وی پروگرام میں بھی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے خود اپنی چھاتی میں گلٹی محسوس ہوئی تھی مگر ابتدا میں اسے نظرانداز کر دیا تھا لیکن کچھ عرصے بعد وہ بڑھ چکی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ جس پر مجھے تشویش ہوئی اور جب طبی معائنہ کروایا تو بریسٹ کینسر کی تصدیق ہوگئی اور اب علاج جاری ہے۔

ماڈل جیلین نے یہ بھی بتایا کہ میرے خاندان میں کینسر کا مرض نسل در نسل ہے اس لیے مجھے ابتدا میں ہی خبردار ہوجانا چاہیئے تھا۔

انھوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ کینسر ابھی جسم کے دیگر حصوں میں نہیں پھیلا۔ کیموتھراپی جاری ہے۔ بال جھڑ چکے ہیں اور میں وگ پہنتی ہوں۔

جیلین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی بیماری سے جنگ کے سفر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہیں گی تاکہ دیگر خواتین کو حوصلہ ملے اور وہ بروقت طبی معائنہ کرانے کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

یاد رہے کہ جیلین الواریز نے 2021 میں مس یونیورس پیورٹو ریکو مقابلے میں سان لورینزو کی نمائندگی کی تھی جہاں وہ دوسری پوزیشن پر رہیں اور “ٹوٹل لک ایوارڈ” بھی حاصل کیا۔

نومبر 2024 میں وہ مس یونیورس کے فائنل میں فاتح امیدوار کو سیش پہنانے کے لیے بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مس یونیورس جیلین نے بتایا کہ ہیں اور

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ