مس یونیورس امیدوار 33 سالہ جیلین بریسٹ کینسر سے نبر د آزما؛ دردناک کہانی سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سابق مس یونیورس امیدوار اور ٹی وی میزبان جیلین الواریز نے انکشاف کیا ہے کہ صرف 33 برس کی عمر میں بریسٹ کینسر جیسے موذی مرض کا سامنا کر رہی ہوں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق معروف شوبز شخصیت نے یہ انکشاف انسٹاگرام پر کیا اور بتایا کہ کینسر کی تشخیص کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل چکی ہے۔
ماڈل جیلین نے بتایا کہ ابتدا میں ہی اپنی علامات کو سنجیدگی سے نہ لینے پر افسوس ہیں اور خواتین کو مشورہ دوں گی کہ اس غلطی سے بچیں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ وہ اس مشکل مرحلے سے اپنے پروردگار پر کامل یقین، مضبوط ایمان اور پُرسکون دل کے ساتھ کاٹ رہی ہیں۔
جیلین نے بتایا کہ زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب آپ موت کا سامنا کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔ ابھی نہیں، میرے ساتھ نہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ اپنی اصل طاقت اور حوصلہ دریافت کرتے ہیں۔
جیلین نے ایک ٹی وی پروگرام میں بھی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے خود اپنی چھاتی میں گلٹی محسوس ہوئی تھی مگر ابتدا میں اسے نظرانداز کر دیا تھا لیکن کچھ عرصے بعد وہ بڑھ چکی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ جس پر مجھے تشویش ہوئی اور جب طبی معائنہ کروایا تو بریسٹ کینسر کی تصدیق ہوگئی اور اب علاج جاری ہے۔
ماڈل جیلین نے یہ بھی بتایا کہ میرے خاندان میں کینسر کا مرض نسل در نسل ہے اس لیے مجھے ابتدا میں ہی خبردار ہوجانا چاہیئے تھا۔
انھوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ کینسر ابھی جسم کے دیگر حصوں میں نہیں پھیلا۔ کیموتھراپی جاری ہے۔ بال جھڑ چکے ہیں اور میں وگ پہنتی ہوں۔
جیلین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی بیماری سے جنگ کے سفر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہیں گی تاکہ دیگر خواتین کو حوصلہ ملے اور وہ بروقت طبی معائنہ کرانے کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔
یاد رہے کہ جیلین الواریز نے 2021 میں مس یونیورس پیورٹو ریکو مقابلے میں سان لورینزو کی نمائندگی کی تھی جہاں وہ دوسری پوزیشن پر رہیں اور “ٹوٹل لک ایوارڈ” بھی حاصل کیا۔
نومبر 2024 میں وہ مس یونیورس کے فائنل میں فاتح امیدوار کو سیش پہنانے کے لیے بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مس یونیورس جیلین نے بتایا کہ ہیں اور
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔