لائبہ خان نے مدینہ منورہ میں نکاح کرلیا، خوبصورت تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ لائبہ خان رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئیں اور اس خوشخبری کا اعلان انہوں نے خود سوشل میڈیا کے ذریعے کیا۔
اداکارہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مدینہ منورہ میں ہونے والے نکاح کی خوبصورت تصاویر شیئر کیں، جس کے بعد مداحوں اور شوبز شخصیات کی جانب سے مبارکبادوں اور دعاؤں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
لائبہ خان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنے نکاح کی اطلاع دی تھی، اور اعلان سامنے آتے ہی ان کے چاہنے والوں نے انہیں نئی زندگی کے آغاز پر ڈھیروں نیک تمنائیں پیش کیں۔ تصاویر میں روحانی ماحول اور سادگی جھلک رہی تھی، جس نے مداحوں کی توجہ مزید حاصل کرلی۔
چند ماہ قبل اداکارہ نے کہا تھا کہ اگرچہ انہیں بہت سے بڑے ناموں کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملا، مگر وہ اپنے کیریئر سے مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں لگتا ہے وہ اداکاری کے میدان میں کافی کچھ حاصل کرچکی ہیں اور اب وہ ریٹائر ہو کر شادی شدہ زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔