WE News:
2026-07-24@11:05:00 GMT

کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

یہ سنہ 2009 کی بات ہے جب ممتاز بزرگ صحافی محمود شام صاحب کے صاحبزادے سلیم محمود نے ہم سے پوچھا، تم نے فیس بک اکاؤنٹ بنایا ہے؟ ہم نے جواب سوال کی صورت دیتے ہوئے پوچھا ’اس کا لوگو مختلف ویب سائٹس پر دیکھا تو ہے مگر سمجھ ہی نہیں پائے کہ یہ ہے کیا چیز، کیا تم اس کے اغراض و مقاصد سمجھا سکتے ہو؟‘

یوں سلیم نے ہمیں صرف فیس بک سے متعارف ہی نہیں کرایا بلکہ بقلم خود ہمارا اکاؤنٹ بھی بنا کر دیدیا۔ اگلے 5 سال ہم نے اس کا یہی استعمال کیا کہ ڈیڑھ 2 ماہ بعد اس پر لاگ اِن ہوکر کوئی خبر ڈال دیتے یا تصویر۔ اس پر 2،3 لائیکس آجاتے اور ہم خوش ہولیتے۔ سنہ 2014 کے شروع میں میں سبوخ سید اور وحید مراد ایک ساتھ پیچھے پڑ گئے کہ تم فیس بک پر باقاعدگی سے لکھنا شروع کرو۔ ایک 2 ماہ تو ہم نہ مانے لیکن مارچ 2014 سے لکھنا شروع کردیا۔

5 سال سے جو فرینڈ لسٹ 284 نفوس پر مشتمل تھی وہ اگلے 6 ماہ میں 5 ہزار کی حد کو جا پہنچی۔ اگلے 6 سال میں فالوورز بھی 75 ہزار ہوگئے۔ یہ فیس بک ہی نہیں بلکہ پورے سوشل میڈیا کا دور عروج تھا۔ کوئی سنسر شپ تھی، اور نہ ہی ریچ رسٹرکشن۔ ہٹلر اور اس کے نازیوں سے لے کر اسامہ بن لادن اور اس کی القاعدہ تک کسی کا بھی ذکر خیر یا بد کیا جاسکتا تھا۔ اس دوران امریکا سے ہی ایسی مستند  ڈاکومنٹریز بھی سامنے آگئی تھیں جن میں ثابت کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا فائدہ سی آئی اے اور ایم آئی سکس جیسی ایجنسیاں اٹھا رہی ہیں۔ اور یہ فوائد دنیا بھر میں ان انقلابات کی صورت نظر آئیں گے جو دکھتے تو عوامی انقلاب ہوں گے مگر فی الحقیقت یہ امریکا کی ’رجیم چینج‘ اسکیم کا حصہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کیمرے کا نشہ

ہم سب عرب اسپرنگ اور جارجیا بغاوت کی صورت ہی اس کے نظائر نہ دیکھ چکے تھے بلکہ پاکستان میں یوتھیوں کی صورت انہیں بھگت بھی رہے تھے۔ مگر عرب اسپرنگ کے دوران مصر میں جو ہوا تھا اس نے عالمی ایجنسیوں کے ہوش اڑا دیے تھے۔ وہاں سوشل میڈیا کی بوتل سے وہ اخوانی جن نکل آیا تھا جو نہ تو پیور عرب ممالک کو قبول تھا اور نہ ہی امریکا کو۔ اس جن کو تو کسی نہ کسی صورت انہوں نے واپس بوتل تک پہنچا دیا مگر خطرے کی محض گھنٹی نہیں گھنٹال تو بج چکا تھا۔ یہ بات واضح ہوگئی تھی سوشل میڈیا کا جو فائدہ عالمی ایجنسیاں اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں وہی فوائد امریکا مخالف بھی اٹھانے کی صلاحیت حاصل کرچکے تھے۔

اگر آپ یاد کریں تو اسی دور میں مشرق وسطیٰ میں ایک اور کھیل بھی 2017ء سے چل پڑا تھا۔ عرب اسپرنگ ایران کے ساتھ ہونے والے مغربی ممالک کے اس معاہدے کے بعد شروع ہوا تھا جس کے تحت ایران نے ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کے عوض تجارتی پابندیوں سے آزادی ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ پر بالادستی بھی حاصل کرنی تھی۔ لیکن ڈونلڈٹرمپ کی جیت نے عالمی اسٹیبلیشمٹ کا سارا مزہ کرکرا کردیا۔ٹرمپ نے ایران سے ہونے والے معاہدے کو پھینکا ڈسٹ بن میں اور عرب ممالک کو پھر سے قریب کرلیا۔  مگر بات یہیں تک نہ رہی، بلکہ ٹرمپ نے امریکا کی داخلی سیاست میں سوشل میڈیا کا استعمال اس مہارت سے شروع کردیا تھا کہ خود امریکا پر ہی ڈیپ اسٹیٹ کا کنٹرول خطرے میں پڑ گیا تھا۔

ایسے میں آیا نومبر 2020 کا امریکی صدارتی الیکشن۔ جسے جوبائیڈن نے جیتا۔ بائیڈن نے 20 جنوری 2021 کو صدارت سنبھالنی تھی لیکن اتنا انتظار بھی ڈیپ اسٹیٹ کے لیے طویل تھا۔ سو بائیڈن نے جو کچھ آنے والی 20 جنوری کے بعد کرنا تھا وہ دسمبر 2020 سے ہی شروع ہوگیا۔ سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم سے لاکھوں اکاؤنٹس ڈس ایبل ہونے شروع ہوگئے۔ خود ہمارا 2009ء والا اکاؤنٹ بھی یہ کہہ کر اڑا دیا گیا کہ تم نے ہٹلر اور القاعدہ وغیرہ کا ذکر کر رکھا ہے۔ حالانکہ وہ ذکر تنقیدی پیرائے میں ہوا تھا، مگر اب ہم اس دور میں داخل ہوچکے تھے جہاں ذکر تک ممنوع تھا۔ ہم کیا بیچتے ہیں محض چار ہفتے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند کردیا گیا۔ کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے جین زی سوشل میڈیا کے استعمال میں ڈیپ اسٹیٹ پر مکمل بالادستی حاصل کرچکے تھے۔

مگر بائیڈن صدارت کے دوران امریکا میں معاملہ محض سوشل میڈیا پر سنسر شپ تک رہا نہیں۔ مین اسٹریم میڈیا سے بھی ایسے نامور صحافی باہر کیے جانے لگے جو  ٹرمپ کی حمایت کرکے ڈیپ اسٹیٹ کے لیے درد سر بن رہے تھے۔ مگر اس غلطی کا ڈیپ اسٹیٹ کو بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ جنہیں مین اسٹریم میڈیا سے نکالا گیا، وہ اب یوٹیوب پر سرگرم تھے اور ان میں سے ایک ایک کی ریچ سی این این کی پورے دن کی ریچ  سے زیادہ تھی۔ مثلا سی این این پرائم ٹائم کے 3 لاکھ ویورز تھے جبکہ ٹکر کارلسن کی ایک ایک ویڈیو ملینز میں دیکھی جا رہی تھی۔ امریکا اور یورپ یوکرین جنگ شروع ہوتے ہی رشین میڈیا پر مکمل پابندی لگا چکے تھے۔ خود مغربی میڈیا پر بھی رشین مؤقف پیش کرنا جرم بنادیا گیا تھا۔ ایسے میں ٹکر کارلسن نے ماسکو جاکر صدر پیوٹن کا طویل انٹرویو کیا اور اسے ٹوئٹر و یوٹیوب سے ایئر کیا تو ویورشپ کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

یہ انٹرویو ڈیپ اسٹیٹ کی میڈیا پالیسی کے خلاف مزاحمت کی بڑی علامت بن گیا۔ جس نے ٹرمپ کے حامیوں کے حوصلے آسمان تک پہنچا دیے۔ ٹکر کارلسن کے خلاف کوئی ایکشن ہوا اور نہ ہی ان کا اکاؤنٹ بند کیا گیا۔ جو اس بات کی واضح علامت تھا کہ اس جنگ میں ڈیپ اسٹیٹ بیک فٹ پر جا رہی ہے۔

ایسے میں جب غزہ کا معاملہ پیش آیا اور اسرائیل نے وہاں نسل کشی کی بدترین مثال قائم کرنی شروع کی تو جلد ہی سوشل میڈیا کا استعمال اس لیول پر پہنچ گیا جہاں امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی ہی نہیں بلکہ ٹرمپ کے ہمنوا بھی اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف کے ساتھ سرگرم ہوگئے۔ یہ ڈیپ اسٹیٹ کے لیے سب سے بدترین صورتحال تھی۔ کیونکہ غزہ سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ڈیپ اسٹیٹ والے مؤقف کے ساتھ تھے۔ اس نئی صورتحال میں دونوں ہی پارٹیاں اسرائیل مخالف موقف پر یکجا ہوگئیں۔ مگر بات اتنی سمپل نہ تھی۔ بلکہ ایک اور چیز بھی ہوگئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیپ اسٹیٹ اسرائیل کی حمایت میں ایک ہوگئے۔ جس کا خمیازہ ٹرمپ کو اپنے ہی ماگا کیمپ میں بڑی تقسیم کی صورت بھگنا پڑ رہا ہے۔

مزید پڑھیے: کینیڈا کے انڈے

ان پے درپے ناکامیوں کے بعد اب ڈیپ اسٹیٹ کی مدد کو امریکی لابی آگئی ہے۔ اور اس نے امریکی مین اسٹریم میڈیا ہی نہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی خریدنے شروع کردیے ہیں۔ اسرائیل کے لیے ڈراؤنا خواب بن جانے والے ٹک ٹاک کے نئے سی ای او ایڈم پریسر نے 2 روز قبل ٹی وی انٹرویو میں بڑے فخر کے ساتھ بتایا ہے۔

’ہم نے ٹک ٹاک کے الگورتھم میں یہ تبدیلی کردی ہے کہ اب وہاں صیہونیت پر تنقید کو ہیٹ اسپیچ کے طور پر ٹریٹ کیا جائے گا۔ ٹک ٹاک پر اب صیہونیت کا ذکر صرف تعریفی شکل میں ہی کیا جاسکے گا‘۔

اس فیصلے کی سنگینی یہ ہے کہ صیہونیت مذہبی نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی اصطلاح ہے۔ یہی وجہ ہے صیہونی یہودیوں اور عیسائیوں دونوں میں پائے جاتے ہیں۔ یوں ٹک ٹاک وہ پہلا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بن گیا ہے جس نے ہیٹ اسپیچ کو مذہب یا مذہبی گروہ سے خالص سیاست تک توسیع دیدی ہے۔ اسی دوران فیس بک نے بھی بغیر کسی اعلان کے ویوز پر کیپ لگا دی ہے۔ یہ کیپ 8999999 کے عدد پر لگی ہے۔ اس کا تجربہ ہمیں ذاتی طور پر ہی ہوا۔ ہماری پروفائل کے ویوز مذکورہ عدد کے بعد تیزی سے گرنے شروع ہوئے۔ ہماری نئی پوسٹوں کے ویوز پر بغیر کسی سٹرائیک یا وارنگ کے ہی 2 تہائی کٹ لگ گیا۔ ہم نے اسے کوئی ایرر سمجھ کر 3 بار رپورٹ کیا مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ یوں ہم پہلے سے موجود اپنے فیس بک پیج کی جانب شفٹ ہوگئے۔ اس کے ٹوٹل ویوز 25 دسمبر 2025 کو ڈھائی لاکھ کے آس پاس تھے۔ اس پر سرگرمی شروع کی تو ایک ماہ میں وہ بھی 89 لاکھ ویوز تک پہنچ گیا۔ اور اسے بھی ریورس گیئر لگ گیا۔ اب ہم پیج پر بھی 2 تہائی کٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔

اگر آپ ٹوئٹر کا حال دیکھیں تو ایلون مسک نے اسے یہی کہہ کر خریدا تھا کہ وہ اسے فری اسپیچ کا پلیٹ فارم بنائیں گے۔ مگر ساتھ ہی گویا یہ پالیسی بھی لے آئے کہ فری اسپیچ فری نہیں ملے گی۔ یہ بیش قیمت نعمت اسی کو ملے گی جو بلیو ٹک خرید کر فری اسپیچ کرے گا۔ اس کے بغیر کی جانے والی فری اسپیچ کو ریچ نہیں ملے گی۔ جبکہ حال ہی میں صیہونیوں کو خجالت سے بچانے کے لیے ٹوئٹر نے حیبرو زبان کی ٹرانسلیشن کی سہولت ختم کرکے بھی واضح کردیا کہ ایلون مسک فری اسپیچ کے کتنے قائل ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی اخلاقی جڑیں

اگر غور کریں تو زیر نظر سطور میں ہم نے صرف امریکا سے جڑے سوشل میڈیا امور پر بات کی ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا کے بیشتر پلیٹ فارمز امریکا کے ہی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پالیسی کے لحاظ سے سب سے بدتر صورتحال یورپ کی ہے۔ جہاں صرف برطانیہ ہی ایک سال میں 12 ہزار افراد کو فری اسپیچ پر گرفتار کرچکا ہے۔ اس صورتحال نے برطانیہ میں خوف کی ایسی فضاء پیدا کردی ہے کہ اب وہاں کا مقیم ملحد بھی ہماری پوسٹوں پر ’جزاک اللہ‘ کے علاوہ کوئی کمنٹ کرنے کا رسک نہیں لیتا۔ ایسے میں یہ سوال بہت اہم ہوجاتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا کا دور ختم ہوا؟ ہم اب اس کی آخری رسومات والے مرحلے میں ہیں؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

امریکا ایلون مسک جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ ڈیپ اسٹیٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایلون مسک جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ ڈیپ اسٹیٹ سوشل میڈیا کا ڈونلڈ ٹرمپ نہیں بلکہ فری اسپیچ ایسے میں کی صورت کے ساتھ ہی نہیں فیس بک ٹک ٹاک کے لیے کے بعد اور اس تھا کہ

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی