جویریہ عباسی کا شوہر کیساتھ بولڈ فوٹو شوٹ؛ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
معروف اداکارہ جویریہ عباسی نے بیٹی کی شادی کے بعد خود دوسری شادی کی ہے اور اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک سیر سپاٹوں میں مصروف ہیں۔
جویریہ عباسی اداکاری کے ساتھ ساتھ سیر و سیاحت کی بھی دلدادہ ہیں اور چوں کہ بیٹی کی شادی کے بعد وہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوچکی ہیں اور خود بھی دوسری بار شادی کے بندھن میں بندھی ہیں تو ایسے شغل میں مصروف رہتی ہیں۔
حال ہی میں انسٹاگرام پر انھوں نے دبئی سفر کی تصاویر شیئر کی ہیں جہاں وہ کروز پر سمندر کی سیر کے مزے لے رہی ہیں۔
جویریہ نے سرخ رنگ کا مغربی لباس زیب تن کیا ہوا ہے اور ان کے شوہر عدیل حیدر جینز کی پینٹ، کوٹ اور ٹی شرٹ پہنے ہوئے ہیں۔ جوڑے نے ساتھ کئی تصاویر بنوائیں۔
گو اداکارہ نے ان تصاویر کے ساتھ کیپشن لکھا کہ یہ سال کا سب سے بہترین دن تھا لیکن سوشل میڈیا صارفین کے لیے یہ دن تنقید کا طوفان لے آیا۔
View this post on Instagramسوشل میڈیا صارفین کو جویریہ کا مغربی لباس ایک آنکھ نہ بھایا اور انھوں نے اسے کسی فیشن میگزین کے لیے بولڈ فوٹو شوٹ قرار دیا۔
ایک صارف نے لکھا کہ اپنی عمر دیکھیں اور لباس دیکھیں جبکہ دوسرے نے تبصرہ کیا یہ لباس ہماری ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
البتہ کچھ صارفین نے اداکارہ کے اسٹائل اور اعتماد کی تعریف کرتے ہوئے جوڑے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
یاد رہے کہ 52 سالہ جویریہ عباسی نے گزشتہ سال اپنے قریبی دوست عدیل حیدر سے دوسری شادی کی تھی۔
اس سے قبل وہ اداکار شمعون عباسی کی اہلیہ رہ چکی ہیں اور ان کی ایک بیٹی عنزیلہ عباسی بھی ہیں جو خود بھی شوبز سے وابستہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جویریہ عباسی
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔