یاسین ملک کی عمر قید کو سرائے موت میں تبدیل کرنے کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
این آئی اے نے مئی 2022ء کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں یاسین ملک کو جعلی مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی ہائی کورٹ نے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو ٹرائل کورٹ کی طرف سے ایک جعلی مقدمے میں سنائی جانے والی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی عرضداشت پر تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے مزید چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر دودیجا پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے اب اس معاملے کی مزید سماعت 22 اپریل کو مقرر کی ہے۔کارروائی کے دوران این آئی اے کیطرف سے خصوصی پبلک پراسیکیوٹر اکشائی پیش ہوئے جنہوں نے سزا میں اضافے کی درخواست کی مخالفت کے حوالے سے یاسین ملک کی طرف سے دائر تفصیلی درخواست کا جواب داخل کرنے کے لیے اضافی وقت مانگا۔ این آئی اے نے مئی 2022ء کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں یاسین ملک کو جعلی مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔یاسین ملک گزشتہ کئی برس سے تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں۔ طبی و دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ان کی صحت انتہائی گر چکی ہے اور وہ کئی عوارض میں مبتلا ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں