اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور سزا کے بعد دیے گئے عدالتی ریمارکس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ بار کا مؤقف ہے کہ گرفتاری میں ہائیکورٹ بار کے ملوث ہونے سے متعلق ریمارکس میں کوئی حقیقت نہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری منظور ججہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہائیکورٹ بار کے سابق صدر رہنے والے ایک معزز جج کی جانب سے بار کے حوالے سے ایسے تبصرے افسوسناک ہیں اور انہیں اس نوعیت کے ریمارکس سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار کے معاملات خود ہائیکورٹ بار احسن انداز میں دیکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے بار کونسلز کا نظام موجود ہے۔
منظور ججہ نے واضح کیا کہ وکلاء کے پاس طاقت کے ہتھیار نہیں بلکہ قلم اور دلیل ہوتی ہے۔ بار قانون اور آئین کے مطابق چلتی ہے اور اپنے وکلاء کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے کیس کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے ترجیحی بنیادوں پر مقرر کیا اور تمام کیسز چیف جسٹس کی جانب سے ہی فکس کیے گئے۔ ان کے مطابق دونوں وکلاء دو روز تک ہائیکورٹ بار کے دفتر میں موجود رہے، جبکہ بار کی درخواست پر جسٹس اعظم خان نے انہیں عبوری ضمانت دی اور سیشن کورٹ میں جاری کارروائی پر بھی ریلیف فراہم کیا۔
سیکرٹری ہائیکورٹ بار نے مزید بتایا کہ بعد ازاں ایک پرانے مقدمے میں بھی عبوری ضمانت دی گئی، تاہم عدالتی وقت ختم ہونے اور چیف جسٹس کے جانے کے بعد ایک نامعلوم مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مقرر نہ ہو سکی۔
بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے دو روز تک گرفتاری کو روکے رکھا اور گرفتاری کے بعد نہ صرف ہڑتال کی گئی بلکہ بھرپور مزاحمت بھی کی گئی۔ منظور ججہ کے مطابق ہائیکورٹ بار کی اپیل پر ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل بھی شانہ بشانہ کھڑی رہیں، پولیس کا کچہری میں داخلہ روکا گیا اور احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی۔
واضح رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری میں اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے ملوث ہونے سے متعلق ریمارکس دیے تھے، جس پر بار کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام ا باد ہائیکورٹ بار ہائیکورٹ بار کے بار کی

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں  کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے  مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات