صدر آصف زرداری کی لاہور ہائیکورٹ کے 11 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
---فائل فوٹو
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے لاہور ہائی کورٹ کے 11 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی، جس کے بعد وزارتِ قانون نے ایڈیشنل ججز کی مستقلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی ہے، وزارتِ قانون نے 6 ماہ توسیع کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
وزارتِ قانون نے جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید احمد وینس اور جسٹس جواد ظفر کو مستقل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
اسی طرح جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک اویس خان، جسٹس سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل خان کو بھی مستقل کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔