سندھ لیبر ڈیپارٹمنٹ میں اربوں کی مبینہ کرپشن، نیب کی انکوائری شروع
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
سابق وزیرشاہد تھہیم ، رفیق قریشی، اعلی افسران کیخلاف نیب کو شکایات موصول ہوئی تھیں،ذرائع
ٹینڈرز ایس پی پی آر اے ویب سائٹ پر شائع کیے بغیر اربوں پسندیدہ ٹھیکیداروں کو جاری کیے گئے
محکمہ لیبر کے ماتحت ورکرز ویلفیٔر بورڈ میں ایک ارب 25 کروڑ روپے کے کی کرپشن انکشاف ہوا ہے، نیب نے سابق وزیر محنت شاہد تھیم، سابق سیکریٹری رفیق قریشی اور ڈائریکٹر انجنیٔرنگ مظفر شاہ پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے تحقیقات شرور کردی اور مزید تفصیلات طلب کرلیں۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے حکومت سندھ کو خط لکھ دیا ہے، خط کے مطابق ادارے کو سابق وزیر محنت شاہد تھہیم، سابق سیکریٹری محنت رفیق قریشی اور دیگر افراد کے خلاف دو شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شکایات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ورکرز ویلفیٔر بورڈ میں اربوں روپے کے ٹھیکے ضابطے کے خلاف من پسند افراد کو جاری کیے گئے، مزدوروں کے گھروں اور اسکولوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ساڑھے پانچ ارب روپے کا جعلی ٹینڈر جاری کیا گیا، یہ ٹینڈر سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جاری نہیں کیا گیا، جو قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، سرکاری ریکارڈ میں 20 مارچ 2025 کو ایک مقامی روزنامے میں اشتہار شائع ہونے کا ذکر ہے، تاہم متعلقہ اخبار میں ایسی کوئی اشاعت نہیں ہوئی، اشتہار ایک ڈمی اخبار میں شایع کیا گیا، جبکہ قانون کے مطابق بیس لاکھ روپے سے زائد کے اشتہار کم از کم چھ معروف اخبارات میں شائع کرنا ضروری ہوتا ہے۔ نیب نے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں ایک فرم سابق سیکریٹری محنت رفیق قریشی کے رشتہ داروں کی ملکیت یا کنٹرول میں ہے۔ اسی طرح صوبائی سیکریٹری کے ایک رشتہ دار کی مبینہ فرم نے کسی قابل تصدیق کام کے بغیر 50 کروڑ روپے وصول کیے، بغیر کام مکمل کیے اور ترقیاتی کام کی تصدیق کرنے کے علاوہ ہی ٹھیکیداروں کو سوا ارب روپے کی رقم جاری کی گئی، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا، معاملے پر مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: رفیق قریشی کیا گیا جاری کی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :