گلستان جوہر کے بلاک 14 میں واقع پلاٹ ایس بی ون پر خطرناک تعمیراتی سرگرمیاں
ہنگامی راستے ، فائر سسٹم نہ ا سموک ڈیٹیکٹرانسپکٹر اورنگزیب غیرقانونی تعمیرات میں ملوث

گلستان جوہر کے بلاک 14 میں واقع پلاٹ ایس بی ون پر جاری تعمیراتی سرگرمیاں سینکڑوں شہریوں کی جانوں کے لیے براہ راست خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ مقامی رہائشیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق، اس عمارت میں حفاظت ِانسانی کے تمام بنیادی اصولوں اور قوانین کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے، عمارت میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا کوئی انتظام ہے ۔ رہائشیوں کے مطابق، عمارت میں آگ لگنے کی صورت میں فرار ہونے کے لیے کوئی مربوط ہنگامی راستہ موجود نہیں، نہ ہی جدید فائر فائٹنگ سسٹم نصب ہے ، اور نہ ہی اسموک یا حرارت کا پتہ لگانے والے ڈیٹیکٹرز موجود ہیں۔علاقے کے ایک بزرگ رہائشی کا کہنا ہے کہ ’’ہم ہر روز اپنے پیاروں کو موت کے منہ میں اتار رہے ہیں‘‘،صورت حال کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے رہائشیوں کا ایک گروپ سڑکوں پر احتجاج کرتا نظر آیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ فوری طور پر تعمیراتی کام روکا جائے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ’’یہ قتلِ عام کی تیاری ہے‘‘ ،ایک خاتون رہائشی فائزہ احمد نے چیختی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’اگر آج آگ لگ گئی تو پورا بلاک جل کر راکھ ہو جائے گا، کیونکہ بچنے کا کوئی راستہ ہی نہیں بنا۔ ہماری چیخ و پکار پر بیوروکریٹس کے کان بہرے ہیں‘‘۔ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس خبر کو ایک نئی جہت دی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر اورنگزیب نے اس غیرقانونی تعمیر کو جاری رکھنے کے لیے جان بوجھ کر رپورٹیں درست انداز میں جمع نہیں کروائیں اور ممکنہ طور پر سازش کے تحت اس کی نگرانی میں کوتاہی برتی گئی ہے ۔تعمیراتی مافیا اور سرکاری محکموں کے بعض اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ کے حوالے سے اب انسپکٹر اورنگزیب کا نام بھی سامنے آیا ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ مافیا نے اعلیٰ سطح پر اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے نہ صرف احتساب کے راستے بند کیے ، بلکہ متعلقہ انسپکٹر کو بھی اس سازش کا حصہ بنایا گیا۔ اسی وجہ سے نہ صرف یہ عمارت بلکہ آس پاس کی کئی دیگر غیرقانونی اور غیر معیاری تعمیرات بھی قانونی چنگل سے بچی کھڑی ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان سے جب انسپکٹر اورنگزیب کے کردار اور مذکورہ عمارت کے حوالے سے رائے طلب کی گئی تو انہوں نے کہا کہ "محکمہ تمام شکایات کو سنجیدگی سے لیتا ہے ۔ انسپکٹر اورنگزیب کے معاملے کی اندرونی تفتیش جاری ہے ۔ اگر ان پر کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہوتی ہے تو ان کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔ مذکورہ عمارت سمیت تمام غیر قانونی تعمیرات کے خلاف باقاعدہ نوٹس جاری ہیں۔”تاہم، رہائشیوں اور نگراں گروپوں کا دعویٰ ہے کہ محکمے کی یہ بیانات اور "اندرونی تفتیش” محض وقت گزاری ہے ۔ زمینی صورت حال بدستور خطرناک ہے اور جب تک اعلیٰ سطح پر ملوث اہلکاروں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی، عوام کا تحفظ محال نظر آتا ہے ۔شہری حقوق کے کارکنوں نے صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے شہر میں حفاظتی قوانین کی اس طرح سے خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر افسران کی ملی بھگت نہ صرف لاپروائی ہے بلکہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا انسپکٹر اورنگزیب کے معاملے پر ہونی والی کارروائی ایک مثال قائم کرے گی، یا پھر رہائشیوں کے خدشات ایک اور المناک حادثے کی شکل میں حقیقت کا روپ دھار لیں گے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: انسپکٹر اورنگزیب کے کے خلاف

پڑھیں:

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقے

نشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق

اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگ

اسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیل

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی