سندھ بلڈنگ ،جلتی عمارتیں! غیرقانونی تعمیرات، محکمہ کی خطرناک لاپروائی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
گلستان جوہر کے بلاک 14 میں واقع پلاٹ ایس بی ون پر خطرناک تعمیراتی سرگرمیاں
ہنگامی راستے ، فائر سسٹم نہ ا سموک ڈیٹیکٹرانسپکٹر اورنگزیب غیرقانونی تعمیرات میں ملوث
گلستان جوہر کے بلاک 14 میں واقع پلاٹ ایس بی ون پر جاری تعمیراتی سرگرمیاں سینکڑوں شہریوں کی جانوں کے لیے براہ راست خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ مقامی رہائشیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق، اس عمارت میں حفاظت ِانسانی کے تمام بنیادی اصولوں اور قوانین کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے، عمارت میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا کوئی انتظام ہے ۔ رہائشیوں کے مطابق، عمارت میں آگ لگنے کی صورت میں فرار ہونے کے لیے کوئی مربوط ہنگامی راستہ موجود نہیں، نہ ہی جدید فائر فائٹنگ سسٹم نصب ہے ، اور نہ ہی اسموک یا حرارت کا پتہ لگانے والے ڈیٹیکٹرز موجود ہیں۔علاقے کے ایک بزرگ رہائشی کا کہنا ہے کہ ’’ہم ہر روز اپنے پیاروں کو موت کے منہ میں اتار رہے ہیں‘‘،صورت حال کی سنگینی کو بیان کرتے ہوئے رہائشیوں کا ایک گروپ سڑکوں پر احتجاج کرتا نظر آیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ فوری طور پر تعمیراتی کام روکا جائے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ’’یہ قتلِ عام کی تیاری ہے‘‘ ،ایک خاتون رہائشی فائزہ احمد نے چیختی ہوئی آواز میں کہا۔ ’’اگر آج آگ لگ گئی تو پورا بلاک جل کر راکھ ہو جائے گا، کیونکہ بچنے کا کوئی راستہ ہی نہیں بنا۔ ہماری چیخ و پکار پر بیوروکریٹس کے کان بہرے ہیں‘‘۔ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس خبر کو ایک نئی جہت دی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب کے خلاف سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکٹر اورنگزیب نے اس غیرقانونی تعمیر کو جاری رکھنے کے لیے جان بوجھ کر رپورٹیں درست انداز میں جمع نہیں کروائیں اور ممکنہ طور پر سازش کے تحت اس کی نگرانی میں کوتاہی برتی گئی ہے ۔تعمیراتی مافیا اور سرکاری محکموں کے بعض اہلکاروں کے درمیان گٹھ جوڑ کے حوالے سے اب انسپکٹر اورنگزیب کا نام بھی سامنے آیا ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ مافیا نے اعلیٰ سطح پر اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے نہ صرف احتساب کے راستے بند کیے ، بلکہ متعلقہ انسپکٹر کو بھی اس سازش کا حصہ بنایا گیا۔ اسی وجہ سے نہ صرف یہ عمارت بلکہ آس پاس کی کئی دیگر غیرقانونی اور غیر معیاری تعمیرات بھی قانونی چنگل سے بچی کھڑی ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان سے جب انسپکٹر اورنگزیب کے کردار اور مذکورہ عمارت کے حوالے سے رائے طلب کی گئی تو انہوں نے کہا کہ "محکمہ تمام شکایات کو سنجیدگی سے لیتا ہے ۔ انسپکٹر اورنگزیب کے معاملے کی اندرونی تفتیش جاری ہے ۔ اگر ان پر کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہوتی ہے تو ان کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔ مذکورہ عمارت سمیت تمام غیر قانونی تعمیرات کے خلاف باقاعدہ نوٹس جاری ہیں۔”تاہم، رہائشیوں اور نگراں گروپوں کا دعویٰ ہے کہ محکمے کی یہ بیانات اور "اندرونی تفتیش” محض وقت گزاری ہے ۔ زمینی صورت حال بدستور خطرناک ہے اور جب تک اعلیٰ سطح پر ملوث اہلکاروں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی، عوام کا تحفظ محال نظر آتا ہے ۔شہری حقوق کے کارکنوں نے صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے شہر میں حفاظتی قوانین کی اس طرح سے خلاف ورزی اور ممکنہ طور پر افسران کی ملی بھگت نہ صرف لاپروائی ہے بلکہ انسانی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا انسپکٹر اورنگزیب کے معاملے پر ہونی والی کارروائی ایک مثال قائم کرے گی، یا پھر رہائشیوں کے خدشات ایک اور المناک حادثے کی شکل میں حقیقت کا روپ دھار لیں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انسپکٹر اورنگزیب کے کے خلاف
پڑھیں:
مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کا طاقتور سپیل جاری ہے، جبکہ محکمہ موسمیات نے آج بھی وقفے وقفے سے بارش کی پیش گوئی کردی، مون سون بارشوں کے باعث حبس اور گرمی کی شدت میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران کم سے کم درجہ حرارت 27 اور زیادہ سے زیادہ 32 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے، شہر کا موجودہ درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوا کی رفتار 11 کلومیٹر فی گھنٹہ اور ہوا میں نمی کا تناسب 83 فیصد رہا۔محکمہ موسمیات نے آج جمعہ کے روز پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مون سون ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں پر اثرانداز ہیں، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی موسم کو متاثر کر رہا ہے، اس کے باعث بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا امکان برقرار رہے گا۔پیشگوئی کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے، خیبرپختونخوا کے پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان اور دیگر بالائی علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ شمال مشرقی بلوچستان کے کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے، سندھ کے بالائی اور جنوب مشرقی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، تاہم صوبے کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بعض علاقوں میں شدید بارش کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، برساتی ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔ متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے جبکہ شہریوں، بالخصوص سیاحوں اور پہاڑی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ادھر قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں نے بھی مقامی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ تیز بارش، آندھی یا گرج چمک کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موسم سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔