میر مرتضیٰ بھٹو مرحوم کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ ان کی نئی یادداشت ’دی آور آف دی وولف‘ وہ کتاب نہیں تھی جو وہ لکھنا چاہتی تھیں بلکہ وہ تھی جسے لکھنا وہ خود پر لازم سمجھتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب: بے چینی، رشتوں کی پیچیدگیوں اور پالتو جانور کی محبت کے قصے

انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں فاطمہ بھٹو صوفے پر بیٹھی نظر آتی ہیں اور ان کے ساتھ ان کا کتا کوکو موجود ہے اور ہاتھ میں کتاب کی ایک کاپی ہے۔

ویڈیو میں وہ بتاتی ہیں کہ یہ یادداشت ان کی زندگی کے ایک ایسے دور سے جنم لیتی ہے جس پر وہ شدید شرمندگی محسوس کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ایسا جابرانہ تعلق تھا جس میں وہ ان کے بقول ضرورت سے کہیں زیادہ عرصے تک پھنسی رہیں۔

فاطمہ بھٹو نے کہا کہ میں یہ کتاب نہیں لکھنا چاہتی تھی کیونکہ مجھے شرم آتی تھی، بہت زیادہ شرم‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس عرصے میں کئی حوالوں سے ٹوٹ چکی تھیں اور کسی ایسی چیز کی تلاش میں تھیں جو انہیں ٹھیک کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سمجھنے میں بہت وقت لگا کہ مجھے خود کو ٹھیک کرنا ہے اور خود کو بچانا ہے۔

مزید پڑھیے: ذوالفقار بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو کا نکاح ، شوہر کس کو چنا؟ نام سامنے آ گیا

فاطمہ بھٹو کے مطابق انہوں نے یہ کتاب اس احساس کے تحت لکھی کہ بہت سی خواتین بھی اسی طرح کی شرمندگی محسوس کرتی ہیں اور اپنے تجربات کے بارے میں بات نہیں کر پاتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاموشی اکثر لوگوں کو نقصان دہ حالات میں ضرورت سے زیادہ دیر تک پھنسائے رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا اب میرا خیال ہے ہمیں اس بارے میں بات کرنی چاہیے تاکہ کم لوگ ایسے حالات میں وقت ضائع کریں۔

یہ یادداشت پہلے ہی امریکا میں شائع ہو چکی ہے جبکہ اگلے ماہ برطانیہ میں اس کی اشاعت متوقع ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Fatima Bhutto (@fbhutto)

کتاب میں فاطمہ بھٹو کے کتے کوکو کا بھی مرکزی کردار ہے جس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ اس نے ان کی زندگی کے سب سے نازک دور میں ان کا ساتھ دیا۔

ویڈیو میں وہ کتاب کو کتوں اور اس محبت کے بارے میں قرار دیتی ہیں جو بغیر کسی شرط کے ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دوستی کی مختلف صورتوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

اس سے قبل فاطمہ بھٹو یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ یہ کتاب اضطراب، منتخب خاندان اور جذباتی نقصان کے بعد خود کو دوبارہ تعمیر کرنے کے سست اور مشکل عمل پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ وہ اس یادداشت کو کسی ڈرامائی فرار کی کہانی کے طور پر پیش کرنے کی بجائے اس حقیقت کا بیان قرار دیتی ہیں کہ جبر کو پہچاننا اس وقت کتنا مشکل ہوتا ہے جب انسان خود اس کے اندر ہو اور خود پر دوبارہ اعتماد کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔

مزید پڑھیں: فاطمہ بھٹو کے ہاں بیٹے کی پیدائش، نام مرتضیٰ بھٹو رکھ دیا

فاطمہ بھٹو کے مطابق یہی شعور بالآخر اس کتاب کے ناگزیر ہونے کی وجہ بنا۔ اگرچہ وہ دی آور آف دی وولف لکھنا نہیں چاہتی تھیں مگر ان کے بقول خاموش رہنا اب ممکن نہیں رہا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

دی آور آف دی وولف فاطمہ بھٹو فاطمہ بھٹو کی پرسنل لائف فاطمہ بھٹو کی یادداشت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دی آور آف دی وولف فاطمہ بھٹو فاطمہ بھٹو کی پرسنل لائف فاطمہ بھٹو کی یادداشت فاطمہ بھٹو کے فاطمہ بھٹو کی انہوں نے میں وہ ہیں کہ

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری

گلگت:

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان