جغرافیائی سیاسی خدشات اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اسٹاک مارکیٹ لرز اٹھی، کے ایس ای 100 انڈیکس 6 ہزار پوائنٹس سے زائد گرگیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو شدید دباؤ دیکھنے میں آیا، جہاں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 6 ہزار سے زائد پوائنٹس کی بڑی کمی سے دوچار ہو گیا۔
کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا اور دن بھر فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔ دوپہر کے ابتدائی اوقات میں فروخت میں مزید تیزی آئی جس سے انڈیکس تیزی سے نیچے گرتا ہوا دورانِ ٹریڈنگ 181,961.
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 6,042.26 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ 182,338.12 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: معاشی اشاریے مضبوط، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تاریخ کی نئی بلندی چھو لی
ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں اس شدید دباؤ کی بنیادی وجوہات جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہیں۔ اسماعیل اقبال سیکورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ شرح سود میں ممکنہ کمی کا عمل تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثناء توفیق نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی تناؤ کے ساتھ ساتھ فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ کے مالیاتی نتائج بھی مارکیٹ کی توقعات سے کم رہے ہیں، جس کے باعث ہمہ جہت فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔
اہم پیشرفت کے طور پر مختلف تجارتی تنظیموں نے مجوزہ بھارت-یورپی یونین فری ٹریڈ معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باوجود ملکی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات کے لیے ساختی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کے روز کے ایس ای 100 انڈیکس 177.53 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے کے ساتھ 188,380.39 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں جمعرات کو استحکام دیکھا گیا، جہاں ٹیکنالوجی سیکٹر کے ملے جلے نتائج اور ایپل کے مالیاتی نتائج سے قبل سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیے رکھا۔ امریکی اور یورپی حکام کی زبانی حمایت کے باوجود ڈالر کی پوزیشن غیر مستحکم رہی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، انڈیکس 1,100 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا
عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے بیانات کے بعد تیل کی قیمتیں بھی چار ماہ کی بلند ترین سطح پر آ گئیں۔
دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو نے توقعات کے مطابق شرح سود برقرار رکھی، جبکہ چیئرمین جیروم پاول نے معاشی حالات میں بہتری اور شرح سود میں وقفے پر کمیٹی کے اندر وسیع اتفاق رائے کا عندیہ دیا۔ سرمایہ کاروں نے اپریل تک شرح سود میں کمی کے امکانات کو کم کرتے ہوئے 26 فیصد کر دیا ہے، جبکہ جون کو اگلا ممکنہ موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے ایس ای 100 انڈیکس تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی سیاسی کے ساتھ
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز