عمران خان کی خرابی صحت کو چھپانا طبی دہشتگردی ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
راولپنڈی:(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی خرابی صحت کو چھپانا طبی دہشت گردی ہے، ہر انسان کا بنیادی حق ہے وہ اپنے ذاتی معالج سے علاج کرائے مگر یہاں تو معالج، اہل خانہ کو بتایا تک نہیں گیا۔
فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے لیڈر کو ہفتے کی رات جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، سوال یہ ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کی حالت یہاں تک کیوں پہنچی کہ انہیں اسپتال لے جانا پڑا؟ بانی کی بیماری کو کیوں چھپایا گیا؟ بانی کی صحت کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو کیوں نہیں بتایا گیا؟ حالات اگر اتنے سنگین تھے تو بانی کے ذاتی معالج کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟ ہفتے سے لے کر آج تک اس بات کو کیوں چھپایا گیا اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں؟
انہوں ںے کہا کہ بانی کی زندگی کے ساتھ مذاق کیا گیا یے، بانی کی زندگی کے ساتھ مذاق یہ قوم برداشت نہیں کرے گی، ضروری ہے کہ حالات کو مزید سنگینی سے بچانے کے لیے عمران خان کے اہل خانہ، پارٹی اور وکلا کی ملاقات کرائی جائے، عمران خان کو ناحق قید میں رکھا گیا، بانی پر ایک قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے عمران خان کی خرابی صحت کو چھپانا میڈیکل ٹیررازم ہے، ہر انسان کا بنیادی حق ہے وہ اپنے ذاتی معالج سے علاج کرائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو بھگوڑا لندن بھاگ گیا تھا جس کے جعلی طریقے سے پلیٹ لیٹس گرے تھے اس کے لیے پوری دنیا سر پر اٹھائی گئی،میڈیا کو عمران خان کی صحت پر آواز اٹھانی چاہیے، میں بانی کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہوں، بانی کی صحت کے حوالے سے پوری قوم غصے میں ہے، جس طرح ایک تصدیق شدہ چور کے لیے آواز اٹھائی گئی اسی طرح بانی کے حوالے سے آواز اٹھائی جائے۔
سہیل آفریدی نے عمران خان کو جیل سے باہر لانے اور واپس سے متعلق فیکٹری ناکے پر موجود ایس ایچ او سے کہا کہ یہ جو آپ لوگ چوری چوری چپکے چپکے قوم کے لیڈر کو باہر لے کر جاتے ہیں، کسی کو پتا بھی نہیں چلتا اس چوری کی اب کیا پوزیشن ہے؟
آج ملاقات کے لیے چھوڑیں گے یا نہیں؟ ہم آئے ہیں ہمارے نام ہیں، حالات تشویش ناک ہیں اور مزید ہوتے جا رہے ہیں، آپ اپنے بڑوں سے بات کریں اگر آج ملاقات نہیں ہوئی تو حالات خراب ہوں گے اور اس کے ذمہ دار یہ خود ہوں گے، یہی پیغام ہے آپ پہنچا دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عمران خان کی بانی کی کی صحت کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔