نیپا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر پاکستان میں ہائی الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
نیپا وائرس کے حوالے سے پاکستان میں بھی ہائی الرٹ کردیا گیا تاہم ملک میں تاحال کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ وفاقی وزارت صحت کے ادارے بارڈر ہیلتھ سروسز نے بھارت میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ پر انتباہ اور ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق ملک بھر کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر سخت اسکریننگ کی ہدایت کر دی گئی ہے اور پاکستان آنے والے اور ٹرانزٹ مسافروں کی 100 فیصد اسکریننگ لازمی قرار دے دی گئی ہے اور تمام مسافروں کی تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنہ بھی لازم ہے۔ مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل سفری تاریخ کی تصدیق کی ہدایت کی گئی ہے اور نیپا سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والوں کی خصوصی نگرانی کا حکم دیا گیا ہے، مشتبہ علامات پر مسافر کو فوری آئسولیٹ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ کلیئرنس کے بغیر کسی مسافر کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکام کے مطابق پاکستان میں تاحال نیپا وائرس کا کوئی تصدیق شدہ کیس نہیں ہے جبکہ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے 5 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ نیپا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے پر تھائی لینڈ، ملائیشیا، ہانگ کانگ، سنگاپور اور نیپال میں بھی اسکریننگ شروع کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیپا وائرس کے پاکستان میں گئی ہے
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔