بھارت میں ”نیپا وائرس“ پھیلنے کا معاملہ، وفاقی وزارت ہیلتھ کی ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) بھارت میں ”نیپا وائرس“ پھیلنے کے معاملے پر وفاقی وزارت ہیلتھ سروسز نے ایڈوائزری جاری کر دی۔ وزارت ہیلتھ سروسز نے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر سخت سکریننگ کی ہدایت کی ہے۔ ایڈوائزری میں پاکستان آنے والے اور ٹرانزٹ مسافر کی 100 فیصد سکریننگ لازمی قرار، مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل ٹریول ہسٹری کی تصدیق کی جائے۔ ”نیپا“ سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والے مسافروں کی خصوصی نگرانی کی جائے۔ بھارت میں مہلک ”نیپا وائرس“ کا پھیلاو ، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے انعقاد پر سوالیہ نشان، ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ تھرمل سکریننگ اور طبی معائنہ ہر مسافر کے لیے لازمی ہو گا۔ نیپا کی مشتبہ علامات پر متاثرہ شخص کو فوری آئسولیٹ کیا جائے۔ بغیرکلیئرنس کسی مسافر کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔