پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں صحافیوں کو ایران کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی، جس سے قبل ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں اور ان کی آڑ میں کی جانے والی تخریب کاری پر مبنی ایک دستاویزی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ ویڈیو میں واضح طور پر شرپسند عناصر کو پرامن احتجاج کو ہائی جیک کرتے ہوئے پرتشدد اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث دکھایا گیا۔

ایرانی سفیر نے بتایا کہ 28 دسمبر کو غیرملکی کرنسی کی قدر میں اضافے کے بعد ایران میں افراطِ زر اور مارکیٹ میں عدم استحکام کے خلاف پرامن مظاہرے شروع ہوئے۔ ان مظاہروں کا مقصد مارکیٹ میں استحکام اور عوامی ریلیف کے اقدامات کا مطالبہ تھا۔ اس دوران مظاہرین کے ہاتھوں میں ایرانی پرچم اور سپریم لیڈر کی تصاویر موجود تھیں۔

مزید پڑھیں: ترکیہ کی امریکا ایران کشیدگی کم کرانے کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش

رضا امیری مقدم کے مطابق ایرانی حکومت اور انتظامیہ نے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے مظاہرین سے مذاکرات کیے، جبکہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بھی مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کے مسائل کے حل کی ہدایت کی۔ پہلی بار مظاہرین کے نمائندوں کو کابینہ اجلاس میں مدعو کیا گیا جہاں ان کے مسائل پر براہِ راست بات چیت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ 31 دسمبر کو اسرائیلی وزیراعظم کے بیان اور 2 جنوری کو امریکی صدر کے مداخلت سے متعلق بیان کے بعد صورتحال نے نیا رخ اختیار کیا۔ بعد ازاں مائیک پومپیو کے ایک ٹویٹ میں مظاہرین اور موساد کے تعلق کا اعتراف سامنے آیا، جس کے بعد پرامن احتجاج تشدد میں بدل گیا۔

ایرانی سفیر کے مطابق تشدد کے دوران عوامی و سرکاری املاک، پولیس اسٹیشنز، مساجد، تعلیمی ادارے اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں جدید اسلحہ استعمال کیا گیا، جن کا پرامن مظاہرین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان واقعات میں 2497 عام شہری جاں بحق ہوئے جبکہ 3117 سے زائد سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 690 دہشتگرد مارے گئے۔

رضا امیری مقدم نے کہا کہ مغربی سرپرستی میں بیرونِ ملک چینلز نے اشتعال انگیزی کو فروغ دیا اور مظاہرین کو ہتھیار اٹھانے پر اکسایا۔ 9 جنوری کو ایران میں حکومت کے حق میں بڑے عوامی اجتماعات منعقد ہوئے، تاہم اس دوران بھی امریکی قیادت کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات سامنے آتے رہے۔

ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔ ہماری مسلح افواج کے پاس اپنے منصوبے ہیں اور وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی ملک، بشمول پاکستان، سے جنگ میں شامل ہونے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ تمام دوست ممالک کی جنگ روکنے کی کوششوں کو سراہتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے پاکستان کی جانب سے حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ ایرانی قانون کے مطابق گرفتار شرپسندوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کے ساتھ کارروائی کی جائے گی۔

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کی دھمکیوں کے سوال پر رضا امیری مقدم نے کہا کہ کسی بھی سربراہِ مملکت کو قتل کی دھمکی دینا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور امریکی صدر کی جانب سے ایسے بیانات قابلِ مذمت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی ریاست کے سربراہ کے خلاف کوئی عزائم نہیں رکھتا۔

آخر میں ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران پاکستان، سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے اور کسی بھی مسلم اتحاد کی حمایت کرتا ہے، اور امید ظاہر کی کہ خطے میں جنگ سے بچاؤ ممکن ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران پاکستان میں ایران کے سفیر ایرانی سفیر میں ایران نے کہا کہ انہوں نے کہ ایران

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو