امریکی حملے کے خطرے میں شدت، وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو فون گھما دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے آج ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران پر امریکی حملے کے سائے گہرے ہوچکے ہیں جب کہ امریکہ نے اپنا بحری بیڑہ بھی تعینات کردیا ہے۔
شہباز شریف کی ایرانی صدر سے گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے لیے مسلسل مکالمہ اور سفارتی رابطے ناگزیر ہیں۔
ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ساڑھے 3 کروڑ ڈالر کا اضافہ
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی روابط اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔