Islam Times:
2026-06-02@22:42:43 GMT

ایران کے خلاف ٹرمپ کے جارحانہ عزائم اور جنگ کے خدشات

اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT

ایران کے خلاف ٹرمپ کے جارحانہ عزائم اور جنگ کے خدشات

اسلام ٹائمز: ایران سے امریکا اور اسرائیل کی دشمنی اور ریشہ دوانیوں کا سلسلہ چالیس سال سے جاری ہے۔ اس درمیان انھوں نے ایران کے اندر درجنوں دہشتگردانہ کارروائیاں انجام دیں، جن میں بے شمار عام شہری، سیاسی و مذہبی رہنماء اور سائنسداں شہید ہوئے۔ گذشتہ سال جون میں ہونیوالی 12 روزہ جںگ میں ایران کے کئی سینیئر فوجی کمانڈر، اہم سائنسداں اور خواتین نیز بچوں سمیت تقریباً بارہ سو عام شہری شہید ہوگئے۔ لیکن جنگ میں امریکی و صیہونی اتحاد کو شکست کا سامنا ہوا، جسکے بعد ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا، جسکو ایران نے اسرائیل کے آخری حملے کا جواب دینے کے بعد قبول کرلیا۔ ظاہر ہے کہ اس جارحیت کے بعد ایران کی مسلح افواج نے اپنی دفاعی توانائی مزید بہتر اور مضبوط بنانے کی کوشش کی ہوگی۔ تحریر: ڈاکٹر محمد مہدی شرافت
(سینیئر چیف ایڈیٹر نیوز سحر اردو ٹی وی تہران)

پوری دنیا کی نگاہیں اس وقت مشرق وسطیٰ پر مرکوز ہیں۔ ایران کے پڑوسی اور خطے کے سبھی ممالک تشویشن کے ساتھ اس خطرناک صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ امریکا ایران کے خلاف کوئی محدود یا ٹارگیٹیڈ جارحیت کرسکتا ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کو اس بات کا ادراک ہے کہ امریکی جارحیت کے نتیجے میں انتہائی تباہ کن جنگ شروع ہوسکتی ہے۔ گذشتہ سال جون میں ہونے والی 12 روزہ جںگ میں ایران نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ ایران جنگ پسند نہیں ہے، لیکن جارحیت کو بغیر جواب کے چھوڑنے والا بھی نہیں ہے اور اس بار یہ جنگ زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے اور اس کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا بالخصوص علاقے کے ممالک بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

ایران سے امریکی دشمنی کی بنیاد:
گیارہ فروری 1979ء کو لاشرقیہ و لاغربیہ کی بنیاد پر نیا ایران دنیا کے افق پر ظاہر ہوا۔ دنیا کی مشرقی اور مغربی، امریکا اور سویت یونین، دونوں سپر طاقتوں کی نفی اس کا بنیادی عنصر تھا۔ نئے ایران کا یہی وہ بنیادی عنصر تھا، جو دنیا کے لئے حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ہی، عالمی تجزیہ نگاروں اور ماہرین کے اذہان میں اس کی بقا کے بارے میں شکوک و شبہات بھی پیدا کر رہا تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں یہ تصور بھی محال تھا کہ دونوں سپر طاقتوں میں سے کسی ایک سے وابستگی کے بغیر کوئي ملک اور نظام باقی بھی رہ سکتا ہے۔ اگرچہ ناوابستہ تحریک کے نام سے ایک تنظیم اس وقت بھی موجود تھی، لیکن اس تحریک کے اراکین کتنے ناوابستہ تھے، یہ محتاج بیان نہیں ہے۔

امریکا اور سوویت یونین نے دنیا کو آپس میں تقسیم کر رکھا تھا اور دنیا کا ہر ملک مشرقی بلاک میں تھا یا مغربی بلاک میں۔ ان حالات میں دونوں سپر طاقتوں کی نفی کی بنیاد پر ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی نظام حکومت قائم ہوا تو دنیا کی دونوں سپر طاقتیں، متحد ہوکر اس کی مخالفت پر کمربستہ ہوگئيں۔ عراقی ڈکٹیٹر صدام کے ذریعے جو جنگ مسلط کی گئی، اس میں دونوں سپر طاقتیں نئے ایران کے مقابلے میں تھیں۔ ایران پر انواع و اقسام کی پابندیوں کا اعلان کیا گيا، اقتصادی ناکہ بندی کی گئی، باہر سے جنگ مسلط کرنے کے ساتھ ہی ایران کے اندر "ایم کے او" کے منافق دہشت گردوں کے ذریعے دہشت گردی کا بازار بھی گرم کیا گیا۔

راقم اس وقت انقلاب ایران کے بعد کی تاریخ دوہرانا نہیں چاہتا بلکہ صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ آج ایران کو دنیا میں جو حیثیت اور پوزیشن حاصل ہے، وہاں تک پہنچنے کے لئے اس کو کن مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ آٹھ برس کی مسلط کردہ جنگ، دہشت گردی، سخت ترین اقتصادی ناکہ بندی اور انواع و اقسام کی پابندیوں کے باوجود دونوں سپر طاقتیں مل کر نئے ایران کو اس کے راستے سے نہ ہٹاسکیں اور نہ ہی شکست دے سکیں اور بیسویں صدی کا آخری عشرہ شروع ہونے سے پہلے ہی سوویت یونین کی شکست و ریخت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

یک قطبی نظام کے مقابلے میں ایران کی مقاومت:
 بیسویں صدی کا آخری عشرہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کا عشرہ تھا۔ جس کے بعد دنیا نے یقین کرلیا کہ اب یک قطبی نظام (یونی پولر سسٹم) چلے گا اور دنیا میں وہی ہوگا، جو امریکا چاہے گا۔ لیکن نیا ایران امریکا کی مرضی کے خلاف اپنے راستے پر چلتا رہا۔ مسلط کردہ جنگ ختم ہونے کے بعد ایران نے تعمیر نو کے ساتھ ہی اقتصادی اور معیشتی بنیادوں کے استحکام پر تیز رفتاری کے ساتھ کام کیا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف میدانوں میں حیرت انگیز ترقی کرکے دنیا پر ثابت کر دیا کہ قوم میں عزم جزم ہو اور "یقیں محکم" اور"عمل پیہم ہو" تو تن تنہاء کسی کی مدد اور تعاون کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کی ترقی و پیشرفت کو نہیں روک سکتی۔

نئے ایران کی توانائی اور پوزیشن کو سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ اس نے پابندیوں اور ناکہ بندی کے دور میں تن تنہاء سائنس و ٹیکنالوجی کے دیگر میدانوں میں خود کفالت کے ساتھ ہی پرامن جوہری میدان میں بھی وہ مرحلہ سر کر لیا کہ دنیا کی چھے بڑی طاقتوں نے اس کے ساتھ اس کی شرائط پر معاہدہ کیا۔ اگر یہ معاہدہ ایران کی شرائط کے بجائے امریکا کی شرائط پر ہوا ہوتا تو ٹرمپ اس معاہدے سے کبھی نہ نکلتے۔ ایران شروع سے ہی دنیا کے یک قطبی نظام میں تبدیل ہو جانے کا مخالف تھا۔ اس نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ یک قطبی (unipolar) نظام دنیا کے لئے خطرناک ہے اور اس کے مقابلے میں کثیر قطبی نظام کی ضرورت ہے۔

یک قطبی نظام کی خطرناک کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ایران نے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد سے ہی کام شروع کر دیا تھا، ایشیاء میں امریکا اور نیٹو کی جارحانہ مداخلت کا راستہ بند کرنے کے لئے ایک ایسے مضبوط ایشیائي بلاک کی ضرورت ہے، جس میں کوئی بھی طاقت دوسروں پر حکمرانی کی فکر میں نہ ہو بلکہ سبھی پورے ایشیاء کو امریکا اور نیٹو کے اثرورسوخ سے پاک کرکے اجتماعی ترقی و پیشرفت کے بارے میں سوچیں۔ روس، چین، پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ہر میدان میں روابط اور تعاون کے فروغ اور مختلف علاقائي تنظیموں کی تقویت کے لئے ایران کی مساعی کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت جو صورتحال وجود میں آئی ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ ایران میں 28 دسمبر2025ء کو  تاجر برادری نے مہنگائی اور ملک کی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ ایران کی حکومت نے احتجاج اور مظاہرے کو عوام کا حق قرار دیا اور ان کے مطالبات پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔

شروع کے دو تین دن تک مظاہرے  پرامن رہے، لیکن پھر امریکا اور صیہونی حکومت کے زرخرید عناصر نے ان مظاہروں کو ہائی جیک کرلیا اور پر امن مظاہروں کو بلووں میں تبدیل کر دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ حالیہ بلووں میں 3117 افراد مارے گئے، جن میں 2،427 عام شہری اور سیکورٹی اہلکار اور 690 دہشت گرد تھے اور 300 سے زائد ایمبولنسیں اور بسیں، 24 پیٹرول پمپ، 700 دکانیں، 300 رہائشی مکانات، 750 بینک، 414 سرکاری عمارتیں، 749 پولیس اسٹیشن، عوامی رضاکار فورس بسیج کے 120 مراکز، 200 اسکول اور کالج ،350 مساجد، 2 چرچ، 253 بس اسٹاپس، 600 اے ٹی ایم مشینیں اور 800 پرائیویٹ گاڑیاں نذر آتش کردی گئیں۔ ایران نے بلووں پر قابو پانے کے بعد سیکڑوں اسرائیلی ایجنٹوں کو گرفتار اور ان کے درجنوں گروہوں کو تہس نہس کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کیخلاف امریکا اور اسرائيل جارحیت اور ایران کی تیاری:
ایران سے امریکا اور اسرائیل کی دشمنی اور ریشہ دوانیوں کا سلسلہ چالیس سال سے جاری ہے۔ اس درمیان انھوں نے ایران کے اندر درجنوں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیں، جن میں بے شمار عام شہری، سیاسی و مذہبی رہنماء اور سائنسداں شہید ہوئے۔ گذشتہ سال جون میں ہونے والی 12 روزہ جںگ میں ایران کے کئی سینیئر فوجی کمانڈر، اہم سائنسداں اور خواتین نیز بچوں سمیت تقریباً بارہ سو عام شہری شہید ہوگئے۔ لیکن جنگ میں امریکی و صیہونی اتحاد کو شکست کا سامنا  ہوا، جس کے بعد ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا، جس کو ایران نے اسرائیل کے آخری حملے کا جواب دینے کے بعد قبول کرلیا۔ ظاہر ہے کہ اس جارحیت کے بعد ایران کی مسلح افواج نے اپنی دفاعی توانائی مزید بہتر اور مضبوط بنانے کی کوشش کی ہوگی۔

ایران نے اپنے دیرینہ دشمنوں کے جارحانہ عزائم کے پیش نظر زمینی اور فضائی دفاع کے ساتھ ہی میزائلی اور بحری توانائی پر بھی کافی کام کیا ہے۔ ایران کی میزائلی دفاعی توانائیوں کا مشاہدہ دنیا گذشتہ 12 روزہ جنگ میں کرچکی ہے اور گذشتہ دنوں دو میزائلی تجربات کے ذریعے دشمنوں کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ملک و قوم کا دفاع اس کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے بحریہ کی طاقت پر بھی کافی توجہ دی ہے اور گذشتہ دنوں صاف اور واضح لفظوں میں اعلان کیا ہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن دشمنوں کی ہر جارحیت کے مقابلے کے لئے پوری طرح تیار ہیں، جس کا واضح پیغام یہ ہے کہ امریکی جنگی بحری بیڑے ایران کے خلاف کوئی بھی جارحیت کرکے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے محفوظ نہیں نکل سکیں گے۔ ایران بارہا اپنے دشمنوں کو یہ پیغام دے چکا ہے کہ مار کر بھاگ نکلنے کا زمانہ ختم ہوچکا ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت ایرانی عوام کے خلاف جارحیت کے بعد بھاگ نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یک قطبی نظام سوویت یونین امریکا اور کے ساتھ ہی جارحیت کے کے مقابلے میں ایران اعلان کیا نئے ایران اور دنیا کوئی بھی ایران کی ایران نے ایران کے کے خلاف دنیا کی نہیں ہے دنیا کے ہے کہ ا کے لئے اور اس ہے اور کر دیا کے بعد

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا