چین کا برطانیہ کیلیے ویزا فری سروس کا اعلان؛ ملازمتوں کے دروازے کھول دیئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
چین نے برطانوی شہریوں کو بغیر ویزے کے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دیدی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس کا اعلان برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس معاہدے کے تحت برطانوی شہری 30 دن تک چین میں ویزا کے بغیر رہ سکتے ہیں۔ ویزا فری سروس سیاحت سمیت کاروباری ویزوں پر بھی حاصل ہوگی۔
چین کے اس فیصلے سے برطانیہ ان 50 ممالک میں شامل ہو جائے گا جنھیں چین ویزا فری سفر کی سہولت دیتا ہے جن میں فرانس، اسپین، اٹلی اور جرمنی بھی شامل ہیں۔
اس وقت تک چین کا ویزا برطانوی شہریوں کے لیے تقریباً £100 سے زائد میں پڑتا ہے اور عموماً ایک ہفتے میں تیار ہوتا ہے جبکہ اضافی فیس پر اسے تیز بھی کیا جا سکتا ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ دنیا کی معیشتی طاقتور معیشتوں میں شمار ہونے کی وجہ سے برطانوی کاروبار چین میں اپنے پاؤں جمانا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ چین کے فری ویزا سروس کے لیے ویزا کے قواعد میں نرمی کی جائے گی تاکہ بیرون ملک اپنے کاروبار کو بڑھاسکیں، اور وطن میں ترقی اور روزگار کو فروغ ملے۔
چین اور برطانیہ نے اس کے علاوہ اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ مستقبل میں دو طرفہ ویزا سروس معاہدے پر مذاکرات شروع کیے جاسکیں۔
علاوہ ازیں دونوں ملکوں نے ایک نئے شراکتی معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں جس کا مقصد چین میں مارکیٹ تک بہتر رسائی، اور صحت، تعلیم، ہنر مندی، پیشہ ورانہ، مالیاتی اور قانونی خدمات کے شعبوں میں نجی اور عوامی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
خیال رہا کہ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے اور برطانیہ کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مزید مضبوطی آنے کی توقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔